رموز بے خودی

کودکی را دیدی ای بالغ نظر

کودکی را دیدی ای بالغ نظر

کو بود از معنی خود بی خبر

ترجمہ

اے پختہ نظر رکھنے والے، تو نے ایسا بچہ دیکھا ہے جو ابھی اپنی حقیقت اور اپنے معنی سے بے خبر ہوتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال ایک نہایت بنیادی انسانی منظر سے اپنی نئی بحث شروع کرتے ہیں۔ وہ ایک بچے کی مثال دیتے ہیں، مگر ان کی نگاہ صرف فردی نفسیات پر نہیں بلکہ ملت کی اجتماعی نفسیات پر بھی ہے۔ بچہ ابھی اپنی ذات کے “معنی” سے بے خبر ہے۔ یعنی اسے یہ شعور نہیں کہ وہ کون ہے، اس کی انفرادی حقیقت کیا ہے، اس کی حدیں کیا ہیں، اس کے رشتے کیا ہیں، اور اس کے اندر کون سا مستقل مرکز موجود ہے۔ اقبال اسی بے خبری کو نقطۂ آغاز بناتے ہیں تاکہ بعد میں یہ دکھا سکیں کہ جیسے فرد آہستہ آہستہ “میں” کا شعور پیدا کرتا ہے، ویسے ہی ملت بھی ایک مرحلے پر پہنچ کر اپنی خودی کو پہچانتی ہے۔

“ای بالغ نظر” کہہ کر اقبال قاری کو بھی دو سطحوں میں تقسیم کرتے ہیں: ایک وہ جو ابھی طفلانہ حالت میں ہے، اور ایک وہ جس کی نظر پختہ ہو چکی ہے۔ گویا شاعر کہہ رہا ہے کہ اگر تم بالغ نظر ہو تو تم بچے کی اس بے خبری کے اندر ایک بڑا اصول دیکھ سکتے ہو۔ بچوں کی نادانی محض کم علمی نہیں، ساختی مرحلہ ہے۔ اسی طرح ملتوں کی بعض کم زوریاں بھی کبھی کبھی ان کے ابتدائی شعور کی کم مائیگی سے پیدا ہوتی ہیں۔ اقبال اس شعور کی پیدائش کی تمثیل قائم کر رہے ہیں۔

معنیِ خود سے بے خبری:

بچے کو اپنے وجود کا مفہوم تفصیل سے معلوم نہیں ہوتا۔ وہ چلتا ہے، چاہتا ہے، روتا ہے، خوش ہوتا ہے، مگر ان سب کے اندر جو مستقل “میں” چھپا ہوا ہے، اس سے اس کا واضح تعارف نہیں بنا ہوتا۔ اقبال کے نزدیک یہ مرحلہ فطری ہے۔ شعور ابتدا میں منتشر ہوتا ہے، مرکز بعد میں پیدا ہوتا ہے۔

یہی نکتہ ملتوں پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ ایک نوخیز ملت کبھی کبھی اپنی تاریخ، اپنی وحدت، اپنے مقصد، اور اپنے امتیازی جوہر سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتی۔ وہ بکھرے ہوئے تاثرات کے ساتھ جیتی ہے۔ اقبال آگے چل کر بتائیں گے کہ یہ حالت ہمیشہ نہیں رہنی چاہیے۔

طفل بطور تمثیل:

اقبال بچے کو کم تر ثابت کرنے کے لیے نہیں لاتے، بلکہ نشوونما کے مرحلے کو نمایاں کرنے کے لیے لاتے ہیں۔ بچہ کمزور ضرور ہوتا ہے، مگر اس میں امکان بہت ہوتا ہے۔ اس کی بے خبری کے اندر آئندہ خود شناسی کے بیج بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے اس مثال میں مایوسی نہیں، نمو کا راز پوشیدہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قاری کو “بالغ نظر” کہا گیا ہے۔ بالغ نظر وہی ہوگا جو اس ابتدائی کم زوری میں بھی آنے والی قوت کی جھلک دیکھ سکے۔ اقبال ملت کو بھی اسی طرح دیکھنا چاہتے ہیں: ناقص مگر قابلِ تکمیل۔

خودی کے پیدائشی مراحل:

اقبال کے نزدیک خودی ایک ہی لمحے میں مکمل نہیں ہو جاتی۔ وہ ابھرتی ہے، آزمایی جاتی ہے، پہچانی جاتی ہے، اور پھر آہستہ آہستہ استحکام پاتی ہے۔ اس شعر میں وہ پہلے مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں: خودی موجود تو ہے مگر اس کا شعور ابھی صاف نہیں۔

یہ مرحلہ اس لیے اہم ہے کہ اگر اسے سمجھا نہ جائے تو آدمی یا قوم اپنی حالت کا غلط علاج کرنے لگتی ہے۔ اقبال پہلے تشخیص کرتے ہیں، پھر علاج کی طرف جائیں گے۔ یہی ان کی فکری ترتیب ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی فرد اور ملت دونوں سطحوں پر بہت سے بحران دراصل “معنیِ خود” سے بے خبری کے بحران ہیں۔ لوگ جانتے ہیں کہ ان کے پاس طاقت ہے، تاریخ ہے، وسائل ہیں، مگر یہ نہیں جانتے کہ ان سب کا مرکز کیا ہے۔ اسی بے خبری سے تقلید، انتشار، اور غیر پرستی جنم لیتی ہے۔

یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ پہلے اپنی حالت کو صحیح نام دیں۔ اگر ہم واقعی اپنے معنی سے بے خبر ہیں تو ہمیں اپنے اندر کے مستقل مرکز، اپنے تاریخی ربط، اور اپنی خودی کے شعور کی طرف لوٹنا ہوگا۔ اقبال اسی سفر کی تمہید باندھ رہے ہیں۔

مثال

جیسے ایک بچہ اپنے نام، خاندان اور رشتوں کو سن تو لیتا ہے مگر دیر سے سمجھتا ہے کہ یہ سب اس کی اپنی شناخت سے کیسے جڑتے ہیں، ویسے ہی فرد اور ملت دونوں ایک وقت تک اپنی حقیقت کے معنی سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں خودی کے ابتدائی مرحلے کی تصویر دکھاتے ہیں: وجود موجود ہے مگر اپنے معنی کا شعور ابھی پختہ نہیں۔ یہی حالت بعد میں فردی اور ملی خود شناسی کے سفر کا نقطۂ آغاز بنتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button