غایتش توسیع ذات مسلم است
غایتش توسیع ذات مسلم است
امتحان ممکنات مسلم است
ترجمہ
اس کا مقصود مسلمان کی ذات کو وسعت دینا ہے، اور امکانات کو آزمانا ایک ثابت حقیقت ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال اپنے پچھلے تمام استدلال کا مقصد صاف کر دیتے ہیں۔ عالمِ اسباب، عالمِ مجبور، محسوس دنیا کی گرہیں، فطرت کی تعلیم، اور موجودات کی تسخیر، یہ سب محض بیرونی قوت یا مادّی غلبہ حاصل کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ ان سب کی “غایت” یعنی اصل منزل “توسیعِ ذاتِ مسلم” ہے۔ یعنی مسلمان کی خودی، اس کی شخصیت، اس کی بصیرت، اس کی اخلاقی و عملی استعداد، اور اس کی ملی حیات کو وسیع کرنا۔ اقبال کے نزدیک کائنات سے صحیح تعلق انسان کو پھیلاتا ہے، سمیٹتا نہیں۔ وہ اسے بڑا ظرف، بڑی نگاہ، بڑی تدبیر اور بڑا میدان عطا کرتا ہے۔
دوسری سطر “امتحانِ ممکنات مسلم است” نہایت گہری ہے۔ یہاں “ممکنات” سے مراد وہ تمام امکانات ہیں جو ابھی پوشیدہ ہیں مگر کشف، عمل اور ہمت کے ذریعے حقیقت بن سکتے ہیں۔ اقبال یہ کہتے ہیں کہ ان امکانات کو آزمانا، جانچنا، کھولنا اور برت کر دکھانا کوئی اختیاری کھیل نہیں بلکہ ایک یقینی امر ہے۔ مسلمان اگر اپنی ذات کو پھیلانا چاہتا ہے تو اسے ممکنات کے امتحان سے گزرنا ہوگا۔ یعنی اسے یہ دیکھنا ہوگا کہ دنیا میں کون سی راہیں بند معلوم ہوتی ہیں مگر کھل سکتی ہیں، کون سی قوتیں خاموش ہیں مگر جگائی جا سکتی ہیں، اور کون سے وسائل حقیر دکھائی دیتے ہیں مگر عظیم تعمیر کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
توسیعِ ذات:
اقبال کے ہاں ذات کا پھیلاؤ محض نفسیاتی اعتماد نہیں، ایک جامع ارتقا ہے۔ اس میں علم بھی بڑھتا ہے، ارادہ بھی پختہ ہوتا ہے، اخلاق بھی نکھرتے ہیں، اور عمل کی قوت بھی وسیع ہوتی ہے۔ جب انسان کائنات کے ساتھ زندہ تعلق رکھتا ہے تو اس کی شخصیت میں ایک نئی وسعت آتی ہے۔ وہ محدود خوف، محدود خواہش اور محدود عادت سے اوپر اٹھنے لگتا ہے۔
ملت کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اجتماعی خودی چھوٹے دائروں میں بند نہ رہے۔ وہ اپنے فکر، صنعت، تہذیب، علم، نظم اور دعوت میں پھیلاؤ پیدا کرے۔ اقبال اسی ہمہ جہت وسعت کو مطلوب رکھتے ہیں۔
ممکنات کا امتحان:
ممکنات کو آزمانا دراصل تخلیقی ہمت کا نام ہے۔ جو قوم صرف موجود حالت کو قبول کر کے بیٹھ جائے وہ نئے امکان پیدا نہیں کر سکتی۔ مگر جو قوم سوال اٹھاتی ہے، تجربہ کرتی ہے، ناکامی سے سیکھتی ہے، اور ناممکن دکھائی دینے والی راہوں پر بھی غور کرتی ہے، وہ بتدریج نئی حقیقتیں پیدا کرتی ہے۔ اقبال اسی ممکنات اندیشی کو زندگی کی علامت سمجھتے ہیں۔
یہ امتحان علمی بھی ہے، عملی بھی، اور روحانی بھی۔ علمی اس لیے کہ امکانات علم سے کھلتے ہیں، عملی اس لیے کہ وہ محنت سے حقیقت بنتے ہیں، اور روحانی اس لیے کہ اس سارے عمل کے لیے باطن کی جرات اور امید درکار ہوتی ہے۔
یقین اور ذمہ داری:
دوسرے مصرعے میں “مسلم” کی گونج ایک طرف قطعیت دیتی ہے اور دوسری طرف امت کی نسبت بھی محسوس ہوتی ہے۔ گویا امکانات کی آزمائش ایک یقینی قانون بھی ہے اور مسلمان کے لیے ایک زندہ ذمہ داری بھی۔ اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ اگر تم اپنی ذات کو وسیع کرنا چاہتے ہو تو پھر تمہیں امکانات کے میدان میں اترنا ہی ہوگا۔
یہ ذمہ داری فراغت کا مشغلہ نہیں بلکہ وجود کی شرط ہے۔ جمود خودی کو سکیڑتا ہے، جبکہ ممکنات کا امتحان اسے پھیلاتا ہے۔ یہی اس شعر کا مرکزی نکتہ ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کے سامنے بارہا یہ سوال آتا ہے کہ ہماری قوت کیوں سمٹ گئی، اعتماد کیوں گھٹ گیا، اور میدان کیوں ہاتھ سے نکل گئے۔ اقبال کا جواب یہ ہے کہ شاید ہم نے ممکنات کا امتحان چھوڑ دیا۔ ہم نے نئی راہیں بنانے کے بجائے موجود کم زوریوں کو تقدیر سمجھ لیا، اور یوں ہماری ذات بھی سمٹتی گئی۔
یہ شعر دوبارہ وسعت کی طرف بلاتا ہے۔ اگر مسلمان کو اپنی ملی حیات پھیلانی ہے تو اسے امکانات کو پرکھنے، نئے میدان آزمانے، اور کائنات کے ساتھ زندہ تخلیقی تعلق قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی عمل اسے پھر سے وسیع، بیدار اور مؤثر بنائے گا۔
مثال
جیسے ایک شاگرد نئے سوال حل کیے بغیر اپنی علمی صلاحیت نہیں بڑھا سکتا، ویسے ہی ایک ملت امکانات کو آزمائے بغیر اپنی خودی اور حیات کو وسیع نہیں کر سکتی۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ کائنات سے مشغولیت کی اصل غایت مسلمان کی ذات اور ملی زندگی کی توسیع ہے، اور اس کے لیے امکانات کو آزمانا ایک لازمی اور یقینی مرحلہ ہے۔