رموز بے خودی

تا کشد خار از کف پا ره سپر

تا کشد خار از کف پا ره سپر

می شود پوشیده محمل از نظر

ترجمہ

جب راہ رو پاؤں سے کانٹا نکالنے کے لیے ٹھہرتا ہے تو محمل اس کی نگاہ سے اوجھل ہو جاتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال مقصد کے راستے کی ایک نہایت ظریف مگر سخت حقیقت بیان کرتے ہیں: سفر میں ذرا سی غفلت یا بے جا رکاوٹ بھی مطلوب کو نظروں سے اوجھل کر سکتی ہے۔ “رہ سپر” وہ ہے جو راستہ طے کر رہا ہو، یعنی سالک، مسافر، طالب، یا ملتِ جاریہ۔ “خار از کف پا” چھوٹی سی تکلیف، وقتی رکاوٹ، معمولی زخمت، یا سفر کے ساتھ آنے والی ناراحتی کی علامت ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جب یہ راہ رو کانٹا نکالنے کے لیے رک جاتا ہے تو “محمل” نظروں سے چھپ جاتا ہے۔ یعنی محبوب کا قافلہ آگے بڑھ جاتا ہے، اور طالب پیچھے رہ جاتا ہے۔

یہ شعر اس حقیقت کو سمجھاتا ہے کہ بڑا مقصد مسلسل وفاداری مانگتا ہے۔ راستے میں تکلیف آئے گی، کانٹے چبھیں گے، جسم اور دل دونوں آزمایش سے گزریں گے۔ لیکن اگر انسان ہر چھوٹی تکلیف کو مرکز بنا لے تو اصل مرکز اس کی نگاہ سے نکل سکتا ہے۔ اقبال کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ زخم محسوس ہی نہ کرو، بلکہ یہ کہ زخم کو اپنی حرکت کا حاکم نہ بننے دو۔ مقصد کی طلب اتنی بلند ہو کہ کانٹا بھی تمہیں راستے سے محروم نہ کر سکے۔

کانٹے کی چبھن:

کانٹا زندگی میں آنے والی ان چھوٹی مگر اذیت ناک چیزوں کی علامت ہے جو بسا اوقات بڑے سفر کو روک دیتی ہیں۔ یہ کوئی ذاتی رنج ہو سکتا ہے، تھکن ہو سکتی ہے، کسی ساتھی کی ناقدری ہو سکتی ہے، وقتی مایوسی ہو سکتی ہے، یا ایسا معاملہ جو بظاہر معمولی ہو مگر انسان کی پوری توجہ اپنی طرف کھینچ لے۔ اقبال ہمیں خبردار کرتے ہیں کہ راستے کے کانٹوں کو اصل داستان نہ بننے دو۔

اس میں ایک نفسیاتی حکمت بھی ہے۔ بعض لوگ بڑے مقصد سے نہیں ہٹتے، مگر چھوٹی تکلیفوں کے سامنے ٹھہر کر انھی میں گم ہو جاتے ہیں۔ پھر سفر باقی نہیں رہتا، صرف زخم کا شعور باقی رہ جاتا ہے۔ اقبال اسی نازک مقام کی نشاندہی کرتے ہیں۔

محمل کا اوجھل ہونا:

محمل محبوب کی نسبت، قافلے کی حرکت، اور مطلوب کے ساتھ زندہ تعلق کی علامت ہے۔ جب وہ نظر سے اوجھل ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان سفر کی اصل سمت سے کٹنے لگا ہے۔ مقصد اب بھی موجود ہے، مگر مسافر کی نگاہ اسے دیکھ نہیں رہی۔ یہی غفلت کا آغاز ہے۔

اقبال نے محبوب کو براہِ راست نہیں بلکہ محمل کے ذریعے دکھایا، جس سے ایک اور نکتہ پیدا ہوتا ہے: مقصد تک رسائی کے راستے میں اس کے آثار اور نشانیاں بھی اہم ہیں۔ اگر ہم انھی نشانوں سے کٹ جائیں تو مطلوب سے قربت کا احساس کم زور پڑ جاتا ہے۔

سفر کی استقامت:

یہ شعر استقامت کا درس دیتا ہے۔ ہر بڑا سفر کچھ نہ کچھ زخم مانگتا ہے۔ جو شخص ہر کانٹے پر سفر روک دے وہ کبھی قافلے کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ استقامت کا مطلب بے حسی نہیں، بلکہ ترجیح کا شعور ہے: کانٹا اپنی جگہ، محمل اپنی جگہ۔ اقبال چاہتے ہیں کہ طالب کی نظر ہمیشہ محمل پر رہے، نہ کہ صرف پاؤں کے زخم پر۔

یہی استقامت ملت کے لیے بھی فیصلہ کن ہے۔ قومیں بسا اوقات بڑے نصب العین سے نہیں بلکہ چھوٹے داخلی اختلافات، وقتی ناراضیوں اور جزوی تکلیفوں میں الجھ کر پیچھے رہ جاتی ہیں۔ محمل کا اوجھل ہونا پھر ایک تاریخی حقیقت بن جاتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہمارے انفرادی اور اجتماعی سفر میں بھی بہت سے خار موجود ہیں: روزمرہ کی تھکن، معاشی دباو، باہمی اختلاف، فکری الجھن، تنظیمی کم زوریاں، اور شخصی ناراضگیاں۔ اقبال کا شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ یہ سب راستے کا حصہ ہیں، مقصد کا بدل نہیں۔ اگر ہم انہی زخموں کے گرد اپنی پوری توجہ باندھ لیں گے تو قافلہ نظروں سے اوجھل ہو سکتا ہے۔

یہ شعر دعوت دیتا ہے کہ تکلیف کو دیکھو مگر اس میں گم نہ ہو۔ مقصد کی شمع، محملِ محبوب، اور نصب العین کی حرکت کو نگاہ میں رکھو۔ اسی سے سفر قائم رہتا ہے۔ اقبال کی بصیرت یہ ہے کہ وہ بڑی ناکامیوں کی جڑ اکثر انہی بظاہر چھوٹی رکاوٹوں میں دکھاتے ہیں۔

مثال

جیسے دوڑ میں صرف جوتے کی معمولی تکلیف پر رک جانے والا پیچھے رہ جاتا ہے، ویسے ہی بڑے مقصد کے سفر میں چھوٹی اذیت کو حاکم بنا لینے سے قافلہ نظروں سے نکل سکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں سکھاتے ہیں کہ راہِ مقصد میں آنے والی معمولی تکلیفیں اگر حد سے زیادہ توجہ پا جائیں تو مطلوب کا قافلہ نگاہ سے اوجھل ہو سکتا ہے۔ استقامت یہی ہے کہ کانٹے کے باوجود محمل کو نظر سے نہ جانے دیا جائے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button