همچو جان مقصود پنهان در عمل
همچو جان مقصود پنهان در عمل
کیف و کم از وی پذیرد هر عمل
ترجمہ
مقصد عمل کے اندر اسی طرح پوشیدہ ہوتا ہے جیسے جان جسم میں، اور ہر عمل اپنی کیفیت اور مقدار اسی سے لیتا ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال مقصد اور عمل کے تعلق کو نہایت لطیف اور بنیادی انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مقصد عمل کے اندر اسی طرح چھپا ہوتا ہے جیسے جان جسم میں ہوتی ہے۔ جان نظر نہیں آتی، مگر اسی سے جسم زندہ، متحرک اور بامعنی ہوتا ہے۔ اگر جان نکل جائے تو وہی جسم بے حرکت ڈھانچا رہ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر عمل کے اندر مقصد نہ ہو تو حرکت تو باقی رہ سکتی ہے، مگر اس کے اندر زندہ معنی، سمت اور تخلیقی تاثیر باقی نہیں رہتی۔ اقبال اس تمثیل سے یہ سمجھاتے ہیں کہ اصل مسئلہ صرف عمل کی کثرت نہیں بلکہ اس کے باطن میں موجود روح ہے۔
دوسرے مصرعے میں “کیف و کم” کے الفاظ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ “کیف” یعنی عمل کی کیفیت، اس کا ذوق، اس کی روح، اس کی شان، اور “کم” یعنی اس کی مقدار، وسعت اور پیمانہ۔ اقبال کہتے ہیں کہ ہر عمل اپنی کیفیت اور مقدار مقصد سے لیتا ہے۔ یعنی اگر مقصد بڑا ہو تو چھوٹا عمل بھی عظیم کیفیت اختیار کر سکتا ہے، اور اگر مقصد کم زور ہو تو بہت بڑا عمل بھی اندر سے کھوکھلا رہ سکتا ہے۔ یہ شعر عمل کو صرف ظاہری پیمانوں سے ناپنے کے بجائے اس کے باطنی محرک سے جانچنے کی دعوت دیتا ہے۔
جان اور جسم کی تمثیل:
اقبال نے مقصد کو جان سے تشبیہ دے کر بہت گہری بات کہی ہے۔ جان جسم کے ہر عضو میں جاری ہوتی ہے، مگر کہیں الگ سے دکھائی نہیں دیتی۔ اسی طرح مقصد بھی زندگی کے ہر عمل میں جاری ہونا چاہیے۔ اگر عبادت ایک طرف اور مقصد دوسری طرف، اگر تعلیم ایک طرف اور مقصد دوسری طرف، اگر سیاست ایک طرف اور مقصد دوسری طرف ہو تو زندگی دو حصوں میں بٹ جاتی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مقصد اتنا باطنی ہو جائے کہ ہر عمل کی رگ میں جان کی طرح دوڑے۔
یہ تمثیل یہ بھی بتاتی ہے کہ مقصد عمل پر اوپر سے چپکایا ہوا لیبل نہیں۔ وہ اس کے اندرونی وجود کا حصہ ہے۔ جیسے جان کے بغیر جسم قائم نہیں رہتا، ویسے ہی مقصد کے بغیر اعمال کی حقیقی وحدت باقی نہیں رہتی۔ اسی لیے اقبال سچی حیات کو مقصد کی باطنی موجودگی سے وابستہ کرتے ہیں۔
کیفیت کا منبع:
عمل کی کیفیت صرف اس کی تکنیک سے پیدا نہیں ہوتی۔ ایک ہی لفظ دو آدمی کہیں تو ایک کا اثر دل میں اترتا ہے اور دوسرے کا نہیں۔ ایک ہی خدمت دو لوگ کریں تو ایک میں روح ہوتی ہے اور دوسری میں محض رسم۔ اس فرق کا سبب مقصد ہے۔ جب عمل اپنے بڑے مدعا سے جڑا ہو تو اس کے اندر ایک خاص خلوص، گرمی، سوز اور وزن پیدا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال کے ہاں کیفیت، ظاہر سے زیادہ باطن کا مسئلہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ امت کے اعمال میں ایسی کیفیت ہو جو اس کے نصب العین کی گواہی دے۔ محض سرگرمی کافی نہیں؛ زندہ کیفیت چاہیے۔
مقدار کا پیمانہ:
“کم” کا لفظ یہ بتاتا ہے کہ مقصد صرف عمل کے حسن کو نہیں بلکہ اس کی وسعت کو بھی متعین کرتا ہے۔ جب مقصد بڑا ہوتا ہے تو آدمی کی محنت، برداشت، صبر، قربانی اور استمرار سب بڑھتے ہیں۔ وہ تھوڑے کام سے مطمئن نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے اندر مطلوب کی وسعت موجود ہوتی ہے۔ دوسری طرف چھوٹا مقصد بڑے وسائل کو بھی محدود دائرے میں قید کر دیتا ہے۔
یہ اصول ملی زندگی میں خاص طور پر اہم ہے۔ امت اگر توحید کے حفظ و نشر کو اپنا حقیقی مقصد سمجھے تو اس کے تعلیمی، فکری، معاشرتی اور تمدنی اعمال کی مقدار بھی اسی نسبت سے وسیع ہوگی۔ وہ صرف اپنی بقا تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ خیر کے ابلاغ تک بڑھے گی۔
آج کے لیے سبق:
آج کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اعمال میں بکھراؤ ہے اور ان کے پیچھے مشترک جان کم محسوس ہوتی ہے۔ عبادت ہے مگر اس سے سماجی دیانت کم نکلتی ہے، علم ہے مگر اس سے مقصدی روشنی کم پیدا ہوتی ہے، تنظیم ہے مگر اس میں سوز کم ہوتا ہے۔ اقبال کا شعر ہمیں باطن کی طرف لوٹاتا ہے: اپنے اعمال کی جان تلاش کرو۔ اگر مقصد واقعی ان کے اندر پوشیدہ ہو تو ان کی کیفیت بھی بدلے گی اور ان کا پیمانہ بھی۔
یہ شعر فرد کے لیے بھی محاسبہ ہے۔ اپنے روزمرہ کاموں، اپنی محنت، اپنے تعلقات اور اپنی عبادت کو دیکھو: کیا ان کے اندر کوئی زندہ جان ہے، یا وہ صرف عادت کی حرکت بن چکے ہیں؟ اقبال کا جواب واضح ہے: زندگی کی اصل قوت اس مقصد میں ہے جو جان کی طرح عمل کے اندر پوشیدہ ہو۔
مثال
جیسے ایک ہی جسم جان کے ساتھ متحرک اور جان کے بغیر بے اثر ہو جاتا ہے، ویسے ہی مقصد کے ساتھ عمل زندہ اور مقصد کے بغیر محض صورت رہ جاتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ مقصد عمل کی جان ہے۔ ہر عمل کی کیفیت اور اس کی مقدار اسی پوشیدہ مدعا سے جنم لیتی ہے، اس لیے حقیقی اصلاح عمل کے باطن کو مقصد سے روشن کرنے میں ہے۔