«مگسل از ختم رسل ایام خویش
«مگسل از ختم رسل ایام خویش
تکیه کم کن بر فن و بر گام خویش»
ترجمہ
اپنے زمانے کو ختم الرسل سے جدا نہ کر، اور اپنے فن اور اپنے قدم پر کم بھروسا کر۔
تشریح
یہ شعر وہ عظیم نصیحت ہے جسے اقبال نے مرشدِ رومی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ مفہوم نہایت سادہ ہے مگر اثر بہت گہرا: اپنی زندگی کے زمانے کو ختم الرسل سے منقطع نہ کرو، اور اپنے فن، اپنی مہارت، اپنی عقل، اپنی تدبیر اور اپنے قدم پر زیادہ اعتماد نہ کرو۔ اقبال کے نزدیک یہ ایک پورا تمدنی اور تربیتی منشور ہے۔ انسان، قوم اور امت کی خرابی اس وقت بڑھتی ہے جب وہ اپنی زندگی کو نبوی مرکز سے کاٹ دیتی ہے اور پھر اپنے علم، ہنر، فلسفے یا قوتِ اقدام پر خود کفیل ہو کر چلنے لگتی ہے۔ رومی کا یہ قول اسی غرور کو توڑتا ہے۔
“مگسل” یعنی مت توڑ، مت کاٹ، مت منقطع کر۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ اصل تعلق موجود ہے، مگر اس کے ٹوٹ جانے کا خطرہ بھی ہمیشہ رہتا ہے۔ زمانہ بدلتا ہے، حالات بدلتے ہیں، علوم بدلتے ہیں، ذرائع بدلتے ہیں، مگر اقبال کے نزدیک امت کی روحانی و اخلاقی زندگی تبھی محفوظ رہ سکتی ہے جب اس کا زمانہ حضورِ ختمی مرتبت کی سیرت اور مرکز سے جڑا رہے۔ اگر یہ ربط ختم ہو جائے تو باقی سب فنون بھی آدمی کو صحیح منزل تک نہیں پہنچا پاتے۔
ایام کو نہ توڑنے کا مطلب:
اپنے ایام کو ختم الرسل سے نہ توڑنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ماضی میں واپس چلا جائے، بلکہ یہ کہ وہ اپنے حال کو نبوی معیار سے خالی نہ ہونے دے۔ اس کی سیاست، اس کا علم، اس کی تہذیب، اس کی معاشرت، اس کا گھر، اس کی تربیت، اس کی تجارت، اس کا غصہ، اس کی محبت، سب کسی نہ کسی درجے میں اس نسبت سے روشنی لیتے رہیں۔ اقبال کے نزدیک یہی زندہ سنت ہے۔ سنت محض ایک تاریخی یاد نہیں، حال کے اندر جاری نسبت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ صرف “عقیدہ” نہیں کہتے، بلکہ “ایام خویش” کہتے ہیں۔ یعنی پورا زمانۂ حیات نبوی مرکز سے مربوط رہے۔ اگر ربط صرف مسجد میں ہو اور مزاج کاروبار، سیاست، گھر اور معاشرت میں الگ ہوجائے تو یہ جزوی تعلق ہے، مکمل نہیں۔
فن اور گام پر کم تکیہ:
انسان اپنے فن پر، اپنے قدم پر، اپنی مہارت پر اور اپنی خود ساختہ راہوں پر بہت جلد مغرور ہو جاتا ہے۔ علم ہو، خطابت ہو، تنظیم ہو، سیاست ہو، تخلیق ہو، یا کوئی اور ہنر، ان سب میں یہ دھوکا موجود ہے کہ آدمی انہیں کافی سمجھنے لگے۔ رومی اور اقبال دونوں یاد دلاتے ہیں کہ یہ سب چیزیں اپنے طور پر اہم ہیں، مگر اگر نبوی نسبت سے بے نیاز ہو جائیں تو اپنے مالک کو بھی گمراہ کر سکتی ہیں۔
“گام خویش” کا مطلب یہ بھی ہے کہ اپنی چال، اپنی تدبیر، اپنے سفرِ خود ساختہ پر کم بھروسا کر۔ انسان کے قدم بسا اوقات صحیح بھی لگتے ہیں، مگر اگر ان کی سمت حق کے مرکز سے کٹی ہو تو وہ دور تک جا کر بھی منزل نہیں دیتے۔ اس لیے خود اعتمادی کو نسبتِ محمدی کے تحت رکھنا ضروری ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کا زمانہ فن، مہارت، نظام، کارکردگی، ذاتی برانڈ، اور خود اعتمادی کی زبان بہت بولتا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ مفید ہو سکتے ہیں، مگر اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اگر ہم ان سب پر اتنا تکیہ کر لیں کہ نبوی مرکز ثانوی ہو جائے، تو توازن بگڑ جائے گا۔ ایک مسلمان کی شخصیت میں فن ہو، مگر فن پر فخر نہیں؛ قدم ہو، مگر قدم کو وحی سے بے نیاز نہ سمجھے؛ صلاحیت ہو، مگر اسے اخلاقی مرکز کے تابع رکھے۔
یہ شعر امت کے لیے بھی گہرا سبق رکھتا ہے۔ بہت سی قومیں علمی و فنی ترقی کرتی ہیں، مگر اگر ان کے اخلاقی مرکز کمزور ہو جائیں تو ان کی ترقی خود ان کے لیے بوجھ بن سکتی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلم امت فن بھی حاصل کرے، مگر ختم الرسل سے جدا ہوئے بغیر۔ یہی اصل توازن ہے۔
مثال
جیسے ایک تیز رفتار کشتی اگر قطب نما سے کٹ جائے تو اپنی رفتار کے باوجود بھٹک سکتی ہے، ویسے ہی انسان کا فن اور قدم نبوی مرکز کے بغیر صحیح سمت کھو سکتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر کے ذریعے بتاتے ہیں کہ زندگی کا ہر زمانہ ختم الرسل سے مربوط رہنا چاہیے، اور انسان کو اپنے فن اور اپنی راہ پر ایسی خود کفیلانہ تکیہ نہیں کرنا چاہیے جو اسے اس مرکز سے کاٹ دے۔
