رموز بے خودی

علم حق غیر از شریعت هیچ نیست

علم حق غیر از شریعت هیچ نیست

اصل سنت جز محبت هیچ نیست

ترجمہ

حق کا علم شریعت کے سوا کچھ نہیں، اور سنت کی اصل محبت کے سوا کچھ نہیں۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال شریعت اور سنت کے دو بنیادی پہلو ایک ساتھ سامنے لاتے ہیں۔ پہلی سطر میں وہ کہتے ہیں کہ “علم حق” شریعت کے بغیر نہیں ملتا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے حق، اس کی مرضی، اس کے حکم، اور بندگی کے صحیح طریقے کا معتبر علم اسی راہ سے حاصل ہوتا ہے جو وحی نے دی ہے۔ دوسری سطر میں وہ سنت کی جڑ “محبت” کو قرار دیتے ہیں۔ گویا اتباعِ سنت محض رسمی نقل نہیں، بلکہ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پیدا ہونے والا زندہ تعلق ہے۔ شعر کے مطابق:

علمِ حق کا راستہ:

“علم حق” سے مراد صرف فلسفیانہ بحث یا مجرد عقلی تصور نہیں، بلکہ وہ معرفت ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی مرضی، بندگی کے آداب، خیر و شر کے فرق، اور زندگی کے مقصد سے آشنا کرے۔ اقبال کے نزدیک یہ علم کسی آزاد سرگردانی، محض ذوقی ادعا، یا بے مہار عقل سے حاصل نہیں ہوتا؛ اس کا معتبر راستہ شریعت ہے۔

یعنی حق کا علم اسی وقت محفوظ اور زندگی بخش رہتا ہے جب وہ الٰہی ہدایت کے سانچے میں ہو۔

شریعت اور معرفت کا تعلق:

بعض لوگ شریعت کو ظاہر کا مرحلہ سمجھ کر معرفت کو اس سے اوپر یا اس سے آزاد مانتے ہیں۔ اقبال اس تقسیم کو قبول نہیں کرتے۔ وہ فرماتے ہیں کہ علمِ حق شریعت کے سوا کچھ نہیں۔ مطلب یہ کہ شریعت سے کٹ کر جو معرفت بنائی جائے وہ یا تو دھندلا ذوق ہے یا خطرناک خود فریبی۔ اصل معرفت وہی ہے جو اطاعت، حدود، تزکیہ اور الٰہی میزان کے اندر پروان چڑھے۔

اس طرح شریعت اور حقیقت میں جدائی کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔

اصل سنت جز محبت:

دوسری سطر نہایت دل نشین ہے۔ اقبال سنت کی اصل محبت کو کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سنت کا جوہر محض ظاہری مشابہت نہیں بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عاشقانہ وابستگی، ادب، تعظیم، اتباع اور قلبی قرب ہے۔ محبت ہو تو سنت زندہ عمل بن جاتی ہے؛ محبت نہ ہو تو وہ کبھی کبھی خشک عادت بن سکتی ہے۔

پس سنت کی روح محبت ہے، اور محبت سنت کو ریا کے بجائے قرب کا راستہ بنا دیتی ہے۔

علم اور محبت کا جمع ہونا:

یہ شعر بتاتا ہے کہ دین میں صرف علم کافی نہیں اور صرف جذبہ بھی کافی نہیں۔ علمِ حق شریعت کے ذریعے آتا ہے، اور سنت کی اصل محبت ہے۔ جب یہ دونوں ملتے ہیں تو انسان کا ظاہر بھی سنورتا ہے اور باطن بھی۔ عقل کو راستہ ملتا ہے اور دل کو حرارت۔ اقبال کے ہاں یہی توازن دینی کمال کا آغاز ہے۔

علم اگر محبت سے خالی ہو تو سختی پیدا ہو سکتی ہے، اور محبت اگر شریعت سے خالی ہو تو بے قاعدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بعض لوگ محبت کی بات کر کے شریعت کو ہلکا کرتے ہیں، اور بعض لوگ شریعت کی بات کر کے محبت کے ذوق کو کم کر دیتے ہیں۔ اقبال دونوں کو ایک کر دیتے ہیں۔ حق کا علم شریعت کے راستے سے آتا ہے، اور سنت کا ذوق محبت سے زندہ رہتا ہے۔ یہی دینی زندگی کی جامع صورت ہے۔

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نبوی راہ کی اصل پیروی وہی ہے جس میں حکم بھی ہو اور محبت بھی۔

مثال

جیسے ایک چراغ کو جلنے کے لیے تیل بھی چاہیے اور شعلہ بھی، ویسے ہی دینی زندگی کو شریعت کا علم بھی چاہیے اور سنت کی محبت بھی۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ حق کا معتبر علم شریعت سے جدا نہیں، اور سنت کی اصل روح محبت ہے۔ علم اور محبت کا یہی امتزاج دین کو زندہ، متوازن اور موثر بناتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button