عقل آبایت هوس فرسوده نیست
عقل آبایت هوس فرسوده نیست
کار پاکان از غرض آلوده نیست
ترجمہ
تیرے آباء کی عقل خواہش سے گھسی ہوئی نہیں تھی، اور پاک لوگوں کا کام ذاتی غرض سے آلودہ نہیں ہوتا۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال اسلاف پر اعتماد کی ایک اور بنیاد بتاتے ہیں۔ وہ صرف یہ نہیں کہتے کہ آباء کا راستہ پرانا ہے، بلکہ یہ بھی کہ ان کی عقل ہوس سے فرسودہ نہ تھی، اور پاک لوگوں کا عمل غرض سے آلودہ نہیں ہوتا۔ گویا اسلاف کی قدر صرف زمانی تقدم کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے ہے کہ ان کے فہم میں تقویٰ، دیانت، اخلاص اور نفس سے ایک درجے کی پاکیزگی شامل تھی۔ جب اقبال تقلید کی طرف بلاتے ہیں تو وہ دراصل ایسے ہی پاک ورثے کی طرف رجوع کی دعوت دیتے ہیں۔ شعر کے مطابق:
عقلِ آباء کی حیثیت:
آباء کی عقل سے مراد محض خاندانی بڑوں کی سادہ رائے نہیں، بلکہ وہ علمی و روحانی عقل ہے جو صالح اسلاف، فقہا، مفسرین، محدثین اور اہلِ بصیرت کی نسلوں میں کارفرما رہی۔ یہ عقل نصوص سے ربط رکھتی تھی، امت کے وسیع خیر کو دیکھتی تھی، اور اپنی خواہش کو میزان نہیں بناتی تھی۔ اقبال اسی تربیت یافتہ عقل کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
اس لیے آباء کا احترام اندھی تعظیم نہیں، بلکہ ایک اخلاقی و علمی اعتماد بھی ہے۔
ہوس فرسودہ نہ ہونا:
ہوس فرسودہ عقل وہ ہوتی ہے جو خواہش، جاہ، منفعت، خوف، گروہی تعصب یا وقتی فائدے سے گھس جاتی ہے۔ ایسی عقل دلیل بھی دیتی ہے مگر اس کے پیچھے باطنی میلان بیٹھا ہوتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ صالح آباء کی عقل اس بیماری کا شکار نہ تھی۔ ان کا فہم نفس کی طلب سے کم، حق کی طلب سے زیادہ بنا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے فیصلوں میں وزن، وقار اور دیر پائی جاتی ہے۔
کارِ پاکاں:
“پاکاں” وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اخلاص، خشیت، تقویٰ اور ذمہ داری ہو۔ پاک انسان کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے فائدے کو حق کا نام نہیں دیتا۔ وہ اپنے کام کو امت کے خیر، شریعت کی حرمت اور آخرت کی جواب دہی کے ساتھ باندھتا ہے۔ اس لیے اس کے عمل میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
اقبال کا کہنا یہ ہے کہ جن لوگوں نے امت کے لیے راستے تراشے، وہ عموماً ایسی پاکیزہ ذمہ داری کے تحت کام کرتے تھے۔
غرض سے پاکی کیوں اہم ہے:
جب دین کی تعبیر ذاتی غرض سے آلودہ ہو جائے تو آدمی دلیل کو اپنے مطلب کے مطابق موڑنے لگتا ہے۔ کبھی طاقت کے لیے، کبھی قبولیت کے لیے، کبھی جدت کی نمائش کے لیے، اور کبھی دنیاوی منفعت کے لیے۔ ایسی تعبیر اگرچہ ذہین دکھائی دے، مگر اس میں برکت اور سلامتی کم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس غرض سے پاک فہم ملت کے لیے امن، اعتماد اور استحکام لاتا ہے۔
اقبال اسی اخلاقی بنیاد پر اسلاف کے ورثے کو ترجیح دیتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج کے دور میں علم، شہرت، منبر، میڈیا اور تاثر سب ایک ساتھ مل کر دینی گفتگو کو متاثر کرتے ہیں۔ اس ماحول میں یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم صرف تازگی یا زورِ بیان سے متاثر نہ ہوں، بلکہ یہ دیکھیں کہ بات کے پیچھے نفس ہے یا اخلاص، غرض ہے یا امانت۔ اقبال کا شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صالح ورثے کی ایک بڑی قوت اس کا غرض سے پاک ہونا ہے۔
اسی لیے انحطاط کے زمانے میں ایسے پاکیزہ ورثے کی طرف رجوع سلامتی اور حکمت دونوں کا راستہ بنتا ہے۔
مثال
جیسے صاف پانی اسی نالی سے آتا ہے جس میں میل کم ہو، ویسے ہی دینی فہم بھی اسی عقل سے زیادہ محفوظ نکلتا ہے جو خواہش اور غرض سے کم آلودہ ہو۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں اسلاف کی پیروی کی اخلاقی بنیاد بیان کرتے ہیں: ان کی عقل خواہش سے فرسودہ نہ تھی اور ان کا کام ذاتی غرض سے آلودہ نہ تھا۔ اسی پاکیزگی کی وجہ سے ان کا ورثہ امت کے لیے زیادہ قابلِ اعتماد بنتا ہے۔