از جهانبانی نوازد ساز او
از جهانبانی نوازد ساز او
مسند جم گشت پا انداز او
ترجمہ
اس کا ساز دنیا داری اور جہانبانی کی دھن چھیڑنے لگا، اور جمشید کا تخت بھی اس کے قدموں کے لیے پائنداز بن گیا۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال عربِ صحرائی کے قرآنی انقلاب کے اگلے مرحلے کو بیان کرتے ہیں۔ وہ انسان جو پہلے صحرا کی خام حرکت، بے تابی اور غیر منظم قوت کا حامل تھا، قرآن کے زیرِ اثر ایسا بدلا کہ اب اس کا “ساز” جہانبانی کی دھن چھیڑنے لگا۔ یعنی وہ صرف اپنے نفس یا قبیلے کا آدمی نہ رہا، بلکہ تاریخ ساز، تہذیب ساز اور نظمِ عالم سے متعلق شخصیت بن گیا۔ “مسند جم” فارسی تخیل میں شاہانہ اقتدار، قدیم سلطنت اور دنیاوی عظمت کی علامت ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ سب اس کے لیے پائنداز بن گئے۔ شعر کے مطابق:
ساز کا بدلنا:
ساز سے مراد صرف موسیقی نہیں بلکہ شخصیت کی پوری دھن، اس کے عمل کی لَے، اس کے وجود کی ترتیب بھی ہے۔ قرآن سے پہلے یہ ساز خام بدویت کی لے میں تھا؛ قرآن کے بعد اس میں جہانبانی کی دھن پیدا ہوئی۔ یعنی اب اس کی توانائیاں بڑے مقصد، منظم قیادت، عدل، تہذیبی ذمہ داری اور عالمی حرکت کے لیے استعمال ہونے لگیں۔
اقبال یہ نہیں کہتے کہ صرف اقتدار حاصل ہوا، بلکہ یہ کہ شخصیت کی ساخت ہی اتنی بڑی ہو گئی کہ وہ دنیا کی رہنمائی کے لائق بن گئی۔
جهانبانی کا مفہوم:
جہانبانی محض سلطنت پھیلانے کا نام نہیں۔ اقبال کے ہاں اس میں عدل قائم کرنا، انسان کو خدا سے جوڑنا، علم کو نظم دینا، تہذیب کو مقصد دینا، اور باطل قوتوں کے مقابل ایک ربانی نظام اٹھانا شامل ہے۔ قرآن نے عرب کے اندر یہی اہلیت پیدا کی کہ وہ دنیا میں محض ایک قوم نہ رہے بلکہ ایک پیغام بردار تہذیب بنے۔
اس لیے “جهانبانی” طاقت کی سرشاری نہیں، ذمہ داری کا بلند ترین روپ بھی ہے۔
مسندِ جم:
جم یا جمشید فارسی روایت کا عظیم بادشاہ ہے، اور اس کی مسند شاہی جاہ و جلال کی علامت۔ اقبال کا کہنا ہے کہ قرآنی انسان کے لیے قدیم بادشاہی عظمتیں بھی پائنداز بن گئیں۔ یعنی وہ ان سے مرعوب نہیں رہا، بلکہ انہیں پیچھے چھوڑ گیا۔
اس میں یہ نکتہ پوشیدہ ہے کہ جب بندہ قرآن سے عزت لیتا ہے تو وہ دنیاوی سلطنتوں کی چمک سے مغلوب نہیں ہوتا۔ وہ ان سے بلند معیار رکھتا ہے، کیونکہ اس کا مرکز وحی ہے، نہ کہ صرف شاہی رواج۔
طاقت اور وقار:
یہ شعر دنیاوی کامیابی کی سطحی خوشی نہیں مناتا، بلکہ یہ دکھاتا ہے کہ حقیقی طاقت اس وقت باوقار بنتی ہے جب اس کے پیچھے بندگی، عدل اور قرآنی تربیت ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال پہلے بندگی کا ذکر کرتے ہیں، پھر جہانبانی کی دھن سامنے آتی ہے۔ پہلے بنده آیا، پھر خواجه باطل رخصت ہوا، پھر جہانبانی ممکن ہوئی۔
یہ ترتیب بہت معنی رکھتی ہے۔ جو بندگی کے بغیر اقتدار چاہے گا وہ استبداد پیدا کرے گا؛ اور جو بندگی کے بعد اقتدار پائے گا وہ تہذیب اٹھا سکتا ہے۔
امت کے لیے پیغام:
اقبال امت کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس کی اصل منزل صرف بقا نہیں، قیادت ہے؛ صرف دفاع نہیں، تعمیری رہنمائی ہے۔ مگر یہ رہنمائی قرآن سے الگ ہو کر نہیں مل سکتی۔ اگر امت اپنے قرآنی مرکز سے کٹ جائے تو دنیا کے تخت اسے مرعوب کر دیں گے؛ اور اگر جڑ جائے تو وہی تخت پائنداز بن سکتے ہیں۔
اس لیے اصل سوال اقتدار سے پہلے اس شخصیت کا ہے جو اقتدار سنبھالے۔ قرآن اسی شخصیت کو بناتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج مسلمان یا تو اقتدار سے مایوس ہیں یا اقتدار کو محض دنیاوی کامیابی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اقبال کا شعر دونوں غلط فہمیوں کی اصلاح کرتا ہے۔ قرآن کی تربیت یافتہ امت دنیا کی رہنمائی کر سکتی ہے، مگر اس کی بنیاد روحانی و اخلاقی بندگی پر ہونی چاہیے، نہ کہ محض طاقت کے کھیل پر۔
اگر ہم جہانبانی کی اس قرآنی تعریف کو دوبارہ سمجھ لیں تو ہماری سیاست، تعلیم اور اجتماعی خواب سب بدل سکتے ہیں۔
مثال
جیسے ایک سچا معمار پہلے نقشہ اور بنیاد درست کرتا ہے پھر عمارت اٹھاتا ہے، ویسے ہی قرآن پہلے شخصیت اور اصول بناتا ہے، پھر قیادت اور اقتدار کو معنی دیتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ قرآن نے صحرائی عرب کی خام قوت کو اس درجہ منظم اور بلند کیا کہ وہ جہانبانی کے لائق بن گیا، یہاں تک کہ قدیم بادشاہی عظمتیں بھی اس کے لیے پائنداز ثابت ہوئیں۔