قصه ی دین مسیحائی فسرد
قصه ی دین مسیحائی فسرد
شعله ی شمع کلیسائی فسرد
ترجمہ
مسیحی دین کی کہانی سرد پڑ گئی، اور کلیسا کی شمع کا شعلہ بھی بجھنے لگا۔
تشریح
اقبال اس شعر میں مغربی تاریخ کے اس لمحے کو بیان کرتے ہیں جہاں مذہبی حرارت کمزور ہو گئی، کلیسا کا اثر ٹھنڈا پڑ گیا، اور یوں ایک روحانی خلا پیدا ہوا۔ پچھلے شعر میں وہ بتا چکے تھے کہ سیاست نے مذہب کی مسند سنبھال لی۔ اب وہ اس تبدیلی کے ایک داخلی منظر کو سامنے لاتے ہیں: مسیحی دین کی قصہ گوئی تو باقی رہی، مگر اس کی زندہ حرارت جاتی رہی؛ کلیسا کی شمع اپنی روشنی کھونے لگی اور اس کے ساتھ ہی اجتماعی زندگی کسی نئے مرکز کی تلاش میں بھٹکنے لگی۔ شعر کے مطابق:
قصه ی دین مسیحائی:
یہاں “قصه” کہنے میں ایک معنی خیز تنقید ہے۔ جب دین اپنی زندہ قوت کھو دے اور محض روایت، حکایت یا رسمی یادگار بن جائے تو وہ زندگی کو راہ دکھانے کے بجائے ایک ماضی کے قصے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اقبال کا مطلب یہ نہیں کہ مسیحی روایت میں کوئی خیر باقی نہ تھی، بلکہ یہ کہ مغرب کے اجتماعی شعور میں اس دین کی مؤثر رہنمائی سرد پڑنے لگی تھی۔
دین جب زندگی سے کٹ جائے تو کتابوں میں رہ جاتا ہے، دلوں اور نظاموں میں نہیں۔
فسرد کا مفہوم:
سرد پڑ جانا محض کمی نہیں، حرارت کے ختم ہو جانے کا نام ہے۔ ایمان کی حرارت، عبادت کی سچائی، روحانی وابستگی کی روشنی، اور اخلاقی مرکزیت کا زندہ احساس جب کمزور پڑتا ہے تو دین ظاہری الفاظ تو رکھتا ہے مگر باطنی سوز نہیں رکھتا۔ اقبال اسی سردی کو تہذیبی بحران کی جڑ سمجھتے ہیں، کیونکہ جب روحانی مرکز سرد ہو جائے تو سیاست، مادیت یا قومیّت آسانی سے اس کی جگہ لے سکتی ہے۔
روحانی سردی اکثر فکری شور اور سیاسی شدت کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔
شعله ی شمع کلیسائی:
شمع کی تصویر روشنی، رہنمائی، عبادت اور روحانی اجتماع کی علامت ہے۔ کلیسا کی شمع جب روشن ہو تو وہ دلوں کو کسی اعلیٰ نسبت کی طرف بلاتی ہے۔ مگر اقبال کہتے ہیں کہ اس کا شعلہ بھی فسرد، یعنی کمزور اور مدھم ہو گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مغربی تہذیب میں کلیسائی مرکز اب وہ حرارت اور اثر نہ رکھ سکا جس سے معاشرہ اخلاقی یکجائی پا سکتا۔
شمع بجھنے کے بعد اندھیرا صرف جگہ پر نہیں آتا، سمت پر بھی آتا ہے۔
روحانی خلا اور قومیّت:
اقبال کے نزدیک یہ سردی خالی واقعہ نہیں تھی۔ جب کلیسا کی شمع مدھم ہوئی تو مغرب نے کوئی بڑا روحانی متبادل پیدا نہیں کیا؛ اس کے بجائے سیاست، قوم اور ریاست نے جگہ سنبھال لی۔ یوں ایک مذہبی مرکز کے کمزور ہونے سے وطن پرستی کو فرصت ملی کہ وہ لوگوں کو ایک نئے مقدس تصور کے تحت جمع کرے۔ یہیں سے قومیّت کو وہ جذباتی زور ملا جو پہلے مذہبی اجتماع کے پاس ہوتا تھا۔
مرکز کبھی خالی نہیں رہتا، اگر حق کمزور ہو تو کوئی اور طاقت اس کی جگہ لے لیتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی جب کسی معاشرے میں دین زندہ اخلاقی قوت کے بجائے محض رسم، شعار یا تاریخی قصہ بن جائے تو اس خلا کو کوئی نہ کوئی اور چیز بھر دیتی ہے: کبھی سیاست، کبھی بازار، کبھی قوم، کبھی شخصیت پرستی۔ اقبال ہمیں متنبہ کرتے ہیں کہ روحانی شمع کو صرف محفوظ رکھنا کافی نہیں، اسے زندہ اور روشن رکھنا ضروری ہے، ورنہ اجتماعی زندگی کسی اور مرکز کے گرد گھومنے لگتی ہے۔
اسلامی خودی کے لیے سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ دین اگر سوز کھو دے تو دنیا فوراً کوئی دوسرا معبود تراش لیتی ہے۔
مثال
اگر ایک معاشرہ مذہبی زبان تو استعمال کرے مگر اس کی عدالت، سیاست، معیشت اور اخلاقی عادات میں دین کی سچی روشنی نہ ہو، تو جلد ہی کوئی اور تصور لوگوں کی اصل وفاداری بن جاتا ہے، چاہے اس کا نام ترقی ہو یا قوم۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق مغرب میں مسیحی دین کی زندہ حرارت کمزور پڑ گئی اور کلیسا کی شمع مدھم ہو گئی۔ اسی روحانی خلا نے سیاست اور قومیّت کو بڑا مرکز بننے کا موقع دیا۔