رموز بے خودی

عصر نو کاین صد چراغ آورده است

عصر نو کاین صد چراغ آورده است

چشم در آغوش او وا کرده است

ترجمہ

یہ نیا عہد جو سیکڑوں چراغ لے آیا، اسی کی آغوش میں آنکھ کھول سکا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں محمدی رسالت کو صرف اپنے زمانے کی اصلاح نہیں بلکہ نئے عہد کی پیدائش کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک بعد کی تمام روشنیاں، تہذیبی بیداریاں اور انسانی امکانات اسی آغوش میں پل کر دنیا میں آنکھ کھول سکے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کو عطا کی۔ شعر کے مطابق:

عصرِ نو کا مفہوم:

“عصر نو” محض کیلنڈر کا نیا دور نہیں، بلکہ تاریخ کی نئی شعوری کیفیت ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں انسان نے اپنی قدر، اپنی آزادی، اپنے مشترک مقصد اور اپنے خدا کے ساتھ تعلق کو نئے انداز میں سمجھنا شروع کیا۔ اقبال کے نزدیک اس نئی صبح کے پیچھے محمدی رسالت کا فیضان کار فرما ہے۔

یعنی جدید حیات کے حقیقی روشن امکانات اپنی اصل میں اسی نبوی سرچشمے سے نکلے۔

صد چراغ کیوں:

چراغ علم، عدل، روحانیت، حریت، مساوات، اخوت، تہذیب اور انسانی کرامت کے مختلف جلووں کی علامت ہیں۔ نیا عہد صرف ایک روشنی نہیں لایا، بلکہ بہت سی روشنیوں کے امکانات لے آیا۔ مگر اقبال کہتے ہیں کہ ان سب کی پیدائش اسی آغوش میں ہوئی۔ یعنی محمدی پیغام نے ایسا بنیادی ماحول بنایا جس میں یہ مختلف روشنیاں ممکن ہو سکیں۔

چراغوں کی کثرت نبوی مرکز کی آفاقیت کو ظاہر کرتی ہے۔

آغوش کی تعبیر:

آغوش پرورش، حفاظت اور محبت کی علامت ہے۔ شاعر یہ نہیں کہتا کہ عصرِ نو نے نبی کو صرف مانا؛ وہ کہتا ہے کہ اسی کی آغوش میں آنکھ کھولی۔ یعنی نئی تہذیب اور نئی انسانیت محض متاثر نہ ہوئی بلکہ اسی فیضان میں پالی گئی۔ اس میں اعتماد، رحمت اور تربیت کا احساس بھی موجود ہے۔

گویا نبوی مرکز صرف قانون دینے والا نہیں، تاریخ کو گود میں لینے والا بھی ہے۔

محمدی نسبت اور انسانی ترقی:

اقبال کے ہاں ترقی محض مادی ترقی نہیں۔ اگر انسان کی ترقی میں وقار، اخلاق، خدا سے ربط اور دوسروں کے لیے خیر نہ ہو تو وہ مکمل روشنی نہیں۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ سچے چراغ اسی آغوش سے نکلے جو انسان کو صرف طاقت نہیں، معنی بھی دیتی ہے۔

رسالت ترقی کی اخلاقی ماں ہے، نہ کہ اس کی رکاوٹ۔

آج کا سبق:

آج بہت سے لوگ روشنیوں کی قدر تو کرتے ہیں، مگر ان کے اصل سرچشمے کو بھول جاتے ہیں۔ حقوق، آزادی، وقار، انسانیت، رحمت، یہ سب الفاظ پسند کیے جاتے ہیں، مگر ان کی نبوی جڑوں سے رشتہ کمزور ہو جاتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر چراغوں کی ماں آغوش بھلا دی جائے تو چراغ بھی آخرکار کمزور پڑ جاتے ہیں۔

اصل حفاظت یہی ہے کہ روشن اقدار کو ان کے نبوی سرچشمے سے پھر جوڑا جائے۔

مثال

کسی درخت کے پھل، سایہ اور شاخیں جتنی بھی دل کش ہوں، اگر لوگ جڑ بھول جائیں تو حفاظت کا شعور کم ہو جاتا ہے۔ روشنیوں کا تعلق بھی اپنے اصل سرچشمے سے ایسا ہی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق نئے عہد کی بہت سی روشنیاں محمدی آغوش میں پرورش پا کر دنیا میں آئیں۔ نبوی رسالت ترقی، وقار اور انسانی بیداری کی حقیقی پرورش گاہ ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button