حریت زاد از ضمیر پاک او
حریت زاد از ضمیر پاک او
این می نوشین چکید از تاک او
ترجمہ
آزادی اس کے پاک ضمیر سے پیدا ہوئی، اور یہ شیریں مے اسی کی تاک سے ٹپکی۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں حریت کے سرچشمے کو نہایت خوب صورت استعاروں میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک آزادی کسی محض سیاسی معاہدے، طبقاتی ردعمل یا بے بندش خود مختاری سے پیدا نہیں ہوئی، بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک ضمیر سے پھوٹی۔ اسی لیے یہ آزادی شیریں بھی ہے، زندگی بخش بھی، اور اخلاقی بھی۔ شعر کے مطابق:
ضمیرِ پاک کا معنی:
ضمیر وہ باطنی مرکز ہے جہاں انسان کی نیت، سچائی، خدا خوفی اور اخلاقی شعور بستے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ضمیر پاک تھا، یعنی اس میں خود غرضی، طبقاتی تعصب، سلطنتی ہوس یا ذاتی بڑائی کا میل نہ تھا۔ اقبال کے نزدیک ایسی ہی پاکیزگی سے سچی آزادی جنم لے سکتی ہے۔
اگر قیادت کا ضمیر پاک نہ ہو تو آزادی بھی جلد ایک نئے ظلم میں بدل سکتی ہے۔
حریت کی ولادت:
یہاں حریت کو ایک زندہ پیدا ہونے والی حقیقت کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ گویا آزادی کسی بیرونی نعرے سے برآمد نہیں ہوئی، بلکہ ایک نبوی باطن سے پیدا ہوئی۔ اس سے اقبال کا بڑا اصول واضح ہوتا ہے: بیرونی انصاف کی جڑ اندرونی پاکی میں ہوتی ہے۔ محمدی حریت اسی لیے اخلاقی ہے، کیونکہ اس کا سرچشمہ ضمیر کی طہارت ہے۔
یعنی آزادی کی اصل ماں توحیدی پاکیزگی ہے، نہ کہ محض غصہ یا ردعمل۔
میِ نوشیں کی تعبیر:
“می” یہاں سرمستی اور حیات بخش کیفیت کی علامت ہے، اور “نوشین” سے مراد اس کا شیریں، خوشگوار اور فرحت انگیز ہونا ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ محمدی آزادی تلخی، انتقام اور انارکی کی مے نہیں، بلکہ ایسی شیریں مے ہے جو انسان کو باوقار بناتی ہے، اس کے دل میں وسعت پیدا کرتی ہے، اور اسے خدا کے سامنے آزاد بندگی تک لے جاتی ہے۔
یہ آزادی توڑتی بھی ہے، مگر زہر کے ساتھ نہیں بلکہ حیات کے ذوق کے ساتھ۔
آزادی کی اخلاقی حد:
چونکہ یہ آزادی نبوی ضمیر سے آئی ہے، اس لیے اس کے اندر اخلاقی حدود اور رحمت بھی شامل ہیں۔ یہ آزادی دوسرے کو کچلنے کا نام نہیں، نہ یہ خود سری کا جواز ہے۔ یہ وہ آزادی ہے جو انسان کو خدا کے سوا سب سے آزاد کر کے، پھر اسے عدل، اخوت اور ذمہ داری کا پابند کرتی ہے۔
اسی لیے اقبال کے ہاں حریت اور شریعت ایک دوسرے کی ضد نہیں بنتیں۔
آج کے لیے سبق:
آج آزادی کے نام پر بہت سے نظریے صرف خواہش کی بے لگامی یا سیاسی خود مختاری تک محدود رہ جاتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر آزادی کا سرچشمہ پاک ضمیر نہ ہو تو وہ دوسروں کے لیے جلد ظلم بن سکتی ہے۔ محمدی حریت اس لیے پائیدار ہے کہ وہ ضمیر، خدا خوفی اور رحمت سے پیدا ہوئی ہے۔
اصل آزادی وہی ہے جو انسان کو باوقار بنائے، بے راہ نہ کرے۔
مثال
ایک رہنما اگر واقعی انصاف پسند اور پاک نیت ہو تو اس کے ہاتھ سے آنے والی آزادی لوگوں کو نظم اور عزت دیتی ہے؛ اگر وہ خود غرض ہو تو آزادی کے نام پر نئے استحصال پیدا ہو جاتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق محمدی حریت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک ضمیر سے پیدا ہوئی۔ اسی لیے یہ آزادی شیریں، باوقار، اخلاقی اور زندگی بخش ہے، نہ کہ بے لگام یا انتقامی۔
