دامنش از دست دادن ، مردن است
دامنش از دست دادن ، مردن است
چون گل از باد خزان افسردن است
ترجمہ
اس کے دامن کو ہاتھ سے چھوڑ دینا گویا مر جانا ہے، جیسے خزاں کی ہوا سے پھول مرجھا جاتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں رسالت سے وابستگی کی ناگزیریت کو نہایت اثر انگیز انداز میں بیان کرتے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کا استعارہ دراصل ان کی سنت، ان کی ہدایت، ان کی اخلاقی نسبت اور ان کے لائے ہوئے دین سے مضبوط تعلق کی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس تعلق سے محرومی زندگی کے زوال کے برابر ہے۔ شعر کے مطابق:
دامن کا استعارہ:
دامن پکڑنا ادب، تعلق، رہنمائی اور پناہ کا نشان ہے۔ جب شاگرد استاد کا دامن پکڑتا ہے یا مسافر رہبر کے پیچھے چلتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ خود کو درست سمت کے ساتھ وابستہ کر رہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے مراد وہ تمام نسبتیں ہیں جو انسان کو نبوی مرکز سے باندھتی ہیں: محبت، اطاعت، سنت، حکمت، اور امت کی وحدت۔
اس لیے دامن چھوڑنا صرف جذباتی دوری نہیں، بلکہ زندگی کے مرکز سے کٹ جانا ہے۔
اسے مردن کیوں کہا:
اقبال کے ہاں موت صرف جسمانی خاتمہ نہیں۔ اگر دل اپنی اصل غذا سے محروم ہو جائے، اخلاقی مرکز بکھر جائے، اور زندگی کا نبوی رخ کھو جائے تو ایک طرح کی معنوی موت واقع ہو جاتی ہے۔ انسان چلتا پھرتا رہتا ہے، کام بھی کرتا ہے، مگر اس کی روحانی حرارت اور تہذیبی زندگی سرد پڑنے لگتی ہے۔
اسی لیے شاعر اتنا سخت لفظ استعمال کرتے ہیں تاکہ امت کو اس خسارے کی شدت کا احساس ہو۔
خزاں زدہ پھول کی تصویر:
پھول اپنی تازگی، رنگ، خوشبو اور نرمی سے پہچانا جاتا ہے۔ مگر خزاں کی ایک ہوا اسے مرجھا دیتی ہے۔ اقبال اس تصویر سے دکھاتے ہیں کہ نبوی نسبت سے کٹی ہوئی امت یا شخصیت بھی بظاہر باقی رہتی ہے، مگر اس کی خوشبو، اس کی تازگی اور اس کی روحانی زیبائی کم ہوتی جاتی ہے۔
یعنی زوال ہمیشہ دھماکے سے نہیں آتا، کبھی وہ خزاں کی ہوا کی طرح خاموشی سے آتا ہے اور آہستہ آہستہ جان نکال دیتا ہے۔
فردی اور اجتماعی اطلاق:
فرد کے لیے اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اپنے ایمان کی عملی صورت، اخلاقی ترتیب اور سنت کے زندہ تعلق سے دور ہو جائے تو اس کے دل کی حرارت کم ہو جائے گی۔ ملت کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوی مرکز سے دوری اسے علمی، اخلاقی اور تہذیبی پژمردگی کی طرف لے جائے گی، چاہے اس کے پاس ظاہری وسائل کچھ بھی ہوں۔
اقبال کا تنبیہی لہجہ اسی خطرے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سی کمزوریاں، جو امت میں دکھائی دیتی ہیں، صرف بیرونی دباؤ سے پیدا نہیں ہوئیں؛ ان میں ایک حصہ اس اندرونی دوری کا بھی ہے جو نبوی مزاج، قرآن کی قوت اور سنت کی حکمت سے پیدا ہوئی۔ اقبال کہتے ہیں کہ علاج محض شکایت میں نہیں، دوبارہ دامن پکڑنے میں ہے۔
جس قدر یہ تعلق مضبوط ہوگا، اسی قدر امت کے اندر پھر رنگ، خوشبو اور حیات لوٹ سکتی ہے۔
مثال
ایک پودا اگر اپنی جڑ سے کٹ جائے تو کچھ دیر تک سبز دکھائی دے سکتا ہے، مگر آخرکار سوکھ جاتا ہے۔ یہی حال اس شخصیت یا قوم کا ہے جو اپنے اصل سرچشمے سے کٹ جائے۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اور سنت سے دوری محض کمی نہیں، بلکہ زندگی کے زوال کی ابتدا ہے۔ نبوی دامن سے وابستگی ہی روحانی تازگی اور اجتماعی حیات کی ضمانت ہے۔