رموز بے خودی

حق تعالی پیکر ما آفرید

حق تعالی پیکر ما آفرید

وز رسالت در تن ما جان دمید

ترجمہ

اللہ تعالیٰ نے ہمارا جسم پیدا کیا، اور رسالت کے ذریعے ہمارے تن میں جان پھونک دی۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں رسالت کی حیثیت کو نہایت بنیادی انداز میں بیان کرتے ہیں۔ تخلیقِ جسم اپنی جگہ ایک بڑی نعمت ہے، مگر صرف جسم کا موجود ہونا کافی نہیں۔ انسان کو حقیقی معنویت، مقصد، سمت اور زندہ روح رسالت سے ملتی ہے۔ اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ جسم تو خدا نے بنایا، لیکن اس جسم میں زندگی کی اصل روح رسالت نے پھونکی۔ شعر کے مطابق:

پیکر اور جان کا فرق:

پیکر سے مراد ظاہری ساخت، مادی وجود اور خارجی تشکیل ہے۔ جان اس کے برعکس باطنی معنی، حرکت، مقصد اور شعور کا استعارہ ہے۔ ایک جسم بظاہر سلامت ہو سکتا ہے مگر اگر اس کے پاس مقصد نہ ہو، ہدایت نہ ہو، یا صحیح رخ نہ ہو تو وہ زندہ ہو کر بھی ایک طرح کی بے روحی میں مبتلا رہتا ہے۔ اقبال کے نزدیک رسالت اسی بے روحی کو ختم کرتی ہے۔

گویا رسالت انسان کے وجود کو خالی ڈھانچے سے اٹھا کر با معنی شخصیت میں بدل دیتی ہے۔

رسالت بطور روحِ انسانیت:

یہ شعر بتاتا ہے کہ انبیا کا پیغام محض اخلاقی نصیحت یا چند عبادات کا نظام نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے اندرونی جوہر کی تشکیل ہے۔ رسالت انسان کو بتاتی ہے کہ وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے، کس کے لیے جینا ہے، اور اپنی قوتوں کو کس مقصد کے تابع رکھنا ہے۔ یہی شعور جان بن جاتا ہے۔

اقبال کے نزدیک رسالت کے بغیر انسان کے پاس صلاحیت تو ہو سکتی ہے، مگر اس صلاحیت کا صحیح مصرف نہیں۔

فرد اور ملت دونوں کی حیات:

یہ مصرع صرف فردی انسان کے بارے میں نہیں، پوری امت کے بارے میں بھی ہے۔ ایک قوم کے پاس آبادی، وسائل، ادارے اور قوت ہو سکتی ہے، مگر اگر اس کے پاس رسالت کا دیا ہوا مرکز اور مقصد نہ ہو تو اس کی اجتماعی زندگی بھی بے روح ہو جاتی ہے۔ رسالت قوموں کے اندر بھی جان ڈالتی ہے، کیونکہ وہ انہیں ایک اخلاقی و روحانی جہت دیتی ہے۔

اسی لیے اقبال بار بار ملت کی زندگی کو پیغمبر کے پیغام سے جوڑتے ہیں۔

رسالت اور انسانی وقار:

اقبال کے ہاں انسان کا وقار محض عقل رکھنے یا دنیا بدلنے کی صلاحیت رکھنے میں نہیں، بلکہ اس میں ہے کہ وہ رسالت کی روشنی میں اپنی اصل پہچان تک پہنچے۔ جسمانی زندگی تو حیوان بھی رکھتے ہیں، مگر مقصدی، اخلاقی اور خدا آشنا زندگی رسالت عطا کرتی ہے۔

اس معنی میں رسالت انسان کو محض زندہ نہیں رکھتی، بلکہ اسے زندہ ہونے کے لائق معنی بھی دیتی ہے۔

آج کے لیے رہنمائی:

آج انسان کے پاس معلومات بہت ہیں، سہولتیں بہت ہیں، مگر بے معنویت، اضطراب اور اندرونی خالی پن بھی بہت ہے۔ اقبال اس شعر کے ذریعے بتاتے ہیں کہ محض ظاہری ترقی سے جان نہیں آتی۔ اصل جان اس وقت آتی ہے جب زندگی رسالت کے دیے ہوئے مقصد، ذمہ داری اور خدا سے نسبت کے ساتھ جڑے۔

اگر رسالت کا نور زندگی سے نکل جائے تو جسم باقی رہتا ہے، مگر روحانی جان کمزور پڑ جاتی ہے۔

مثال

ایک جدید ادارہ تمام ٹیکنالوجی اور وسائل رکھ سکتا ہے، مگر اگر اس کے پاس کوئی اخلاقی مقصد نہ ہو تو وہ جلد ہی طاقت کا کھیل بن جاتا ہے۔ مقصد ہی اس کے ڈھانچے میں “جان” ڈالتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق جسمانی وجود اپنی جگہ نعمت ہے، مگر حقیقی جان رسالت سے ملتی ہے۔ رسالت ہی انسان اور ملت دونوں کو مقصد، سمت اور با معنی زندگی عطا کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button