عشق را آتش زن اندیشه کن
عشق را آتش زن اندیشه کن
روبه حق باش و شیری پیشه کن
ترجمہ
عشق کو آگ لگا دینے والی قوت بناؤ، اس پر غور کرو، حق کے لیے روبرو اور حاضر رہو، اور شیر جیسا شیوہ اختیار کرو۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں مومن کی شخصیت کا آخری فعال خاکہ دیتے ہیں۔ یہاں عشق، اندیشہ، حق کی طرف رخ اور شیرانہ شیوہ ایک ہی تربیتی دائرے میں جمع ہو جاتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک سچا انسان نہ صرف صحیح عقیدہ رکھتا ہے بلکہ اس کے اندر ایک زندہ آگ، ایک بیدار فکر، ایک درست رخ اور ایک جرأت مند طرزِ عمل بھی ہوتا ہے۔ شعر کے مطابق:
عشق را آتش زن:
اقبال کے ہاں عشق کمزور جذبہ نہیں، بلکہ حرکت، جرات، ایثار اور خود فراموشی کی آتش ہے۔ “آتش زن” ہونے کا مطلب ہے کہ عشق انسان کے اندر وہ حرارت پیدا کرے جو جمود، سستی، بے مقصدی اور خوف کو جلا دے۔ ایسا عشق آدمی کو صرف رلاتا نہیں، اسے بیدار اور متحرک بھی کرتا ہے۔
یہی عشق خودی کو زندہ رکھتا ہے اور اسے معمولی مصلحتوں کے نیچے دبنے نہیں دیتا۔
اندیشه کن:
اقبال عشق کے ساتھ اندیشہ بھی رکھتے ہیں۔ یہ ان کی متوازن فکر کی علامت ہے۔ وہ اندھی جذباتیت نہیں چاہتے، بلکہ ایسا عشق چاہتے ہیں جو فکر سے ہم آہنگ ہو۔ اندیشہ یہاں بزدلانہ وسوسہ نہیں، بلکہ بصیرت، غور و فکر اور نتیجہ شناسی ہے۔
گویا مومن نہ صرف گرم دل ہو بلکہ روشن دماغ بھی ہو۔ جذبہ اور فکر دونوں کا اتحاد ہی اس کی قوت کو درست رخ دیتا ہے۔
روبه حق باش:
اصل سوال یہ ہے کہ انسان کا رخ کس طرف ہے۔ اگر عشق بھی ہو اور فکر بھی، مگر رخ حق کی طرف نہ ہو، تو ساری قوت ضائع یا تباہ کن ہو سکتی ہے۔ “روبه حق” ہونے کا مطلب ہے کہ نیت، مقصد، وفاداری اور حرکت سب کا قبلہ درست ہو۔ اقبال کے نزدیک شخصیت کی ساری تعمیر اسی سمت سے معنی پاتی ہے۔
یہی رخ عشق کو پاک کرتا ہے اور فکر کو نور دیتا ہے۔
شیری پیشه کن:
آخر میں اقبال مومن سے صرف نرم دلی نہیں چاہتے بلکہ شیرانہ شیوہ بھی مانگتے ہیں۔ اس سے مراد ظلم، سفاکی یا غرور نہیں، بلکہ جرات، استقامت، بے خوفی اور بلند ہمتی ہے۔ حق کی طرف رخ رکھنے والا اور عشق و فکر سے آراستہ انسان میدان میں بزدل نہیں رہ سکتا۔
شیرانہ شیوہ دراصل اسی قلبی آزادی کا عملی اظہار ہے جو پوری حکایت میں عالمگیر کے کردار کے ذریعے سامنے آئی تھی۔
آج کے انسان کے لیے پیغام:
آج بہت سے لوگ یا تو جذبہ رکھتے ہیں مگر فکر نہیں، یا فکر رکھتے ہیں مگر حرارت نہیں، یا حرارت اور فکر رکھتے ہیں مگر ان کا رخ حق کی طرف نہیں ہوتا۔ اقبال ان تینوں کمیوں کا علاج ایک ہی شعر میں دیتے ہیں: عشق کو زندہ کرو، فکر کو روشن کرو، قبلہ درست رکھو، اور عمل میں شیرانہ استقامت پیدا کرو۔
یہی مکمل تربیت ہے جو انسان کو صرف اچھا بولنے والا نہیں بلکہ حق پر قائم رہنے والا بناتی ہے۔
مثال
ایک سماجی کارکن اگر صرف جوش رکھتا ہو تو جلد تھک سکتا ہے، اگر صرف تجزیہ رکھتا ہو تو حرکت نہیں کرے گا، اور اگر دونوں ہوں مگر مقصد خالص نہ ہو تو بگڑ سکتا ہے۔ کامیابی تب آتی ہے جب جوش، فکر، اخلاص اور جرات ایک ساتھ ہوں۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک کامل انسان وہ ہے جس میں عشق کی حرارت، فکر کی روشنی، حق کی طرف درست رخ اور شیرانہ استقامت جمع ہو۔ یہی زندہ خودی کی فعال صورت ہے۔

