تو هم ای نادان دلی آور بدست
تو هم ای نادان دلی آور بدست
شاهدی را محملی آور بدست
ترجمہ
اے نادان، تو بھی ایک دل حاصل کر، اور اس حسنِ حقیقت کے لیے کوئی محمل، کوئی سوار ہونے کی جگہ پیدا کر۔
تشریح
علامہ اقبال یہاں حکایت کے سامع کو براہِ راست مخاطب کرتے ہیں۔ اب قصہ ختم ہو چکا، اصول بھی بیان ہو چکا، اور اب شاعر قاری کو کہہ رہا ہے کہ صرف تعریف سننے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اگر تم نے بھی اس حقیقت کے حسن کا مشاہدہ کرنا ہے، تو پہلے ایسا دل پیدا کرو جو اس کے لیے محمل بن سکے۔ شعر کے مطابق:
نادان سے خطاب:
“نادان” کہہ کر اقبال قاری کو ذلیل نہیں کرتے، بلکہ اسے جگاتے ہیں۔ نادانی یہاں علم کی کمی سے زیادہ باطن کی غفلت کا نام ہے۔ انسان قصے سن سکتا ہے، کرداروں کی تعریف کر سکتا ہے، مگر اگر اپنے دل کی تعمیر نہ کرے تو اصل سبق اس تک نہیں پہنچتا۔ شاعر اس غفلت کو توڑنے کے لیے جھنجھوڑتا ہے۔
یعنی اب سوال عالمگیر کے بارے میں نہیں، تمہارے بارے میں ہے۔
دل بدست آوردن:
دل یہاں جسمانی عضو نہیں بلکہ وہ زندہ مرکز ہے جو ایمان، عشق، یقین اور جرأت کا گھر ہوتا ہے۔ “دل حاصل کر” کا مطلب ہے کہ اپنے اندر وہ باطنی کیفیت پیدا کر جو سستی، تذبذب، خود غرضی اور خوف سے بلند ہو۔ بہت لوگ عقل رکھتے ہیں، معلومات رکھتے ہیں، مگر اقبال کے معیار کا دل نہیں رکھتے۔
ایسا دل محنت، ذکر، مجاہدہ، سچائی اور مسلسل محاسبے سے حاصل ہوتا ہے، محض دعوے سے نہیں۔
شاہد اور محمل:
“شاہد” حسنِ حقیقت، حق کی تجلی یا محبوبِ حقیقی کی علامت ہو سکتا ہے۔ مگر حسن اگر سامنے بھی ہو تو اسے اٹھانے، سنبھالنے اور اپنے اندر جگہ دینے کے لیے “محمل” چاہیے۔ محمل وہ ظرف ہے جو انسان کو ان بڑی حقیقتوں کا حامل بناتا ہے۔ اقبال کا کہنا ہے کہ حق کے جمال کو پانے کے لیے پہلے اپنے باطن کو اس کے قابل بناؤ۔
گویا حقیقت کی نعمت سے پہلے ظرف کی تعمیر ضروری ہے۔
ظرف کی کمی کا مسئلہ:
اکثر انسان بڑی حقیقتوں، بڑی ذمہ داریوں یا بڑی محبتوں کے قابل ظرف نہیں بناتا، پھر یا تو وہ انہیں سنبھال نہیں پاتا یا ان کو سطحی معنی دے دیتا ہے۔ اقبال کے نزدیک دل کی تربیت اسی لیے بنیادی ہے۔ اگر محمل نہ ہو تو حسن کی آمد بھی بے کار جا سکتی ہے۔
اس شعر میں یہی حکمت پوشیدہ ہے کہ پہلے اندر جگہ بناؤ، پھر اس میں نور اترے گا۔
ہماری عملی دنیا:
ہم میں سے بہت سے لوگ عزت، ذمہ داری، قربِ خدا، یا کسی بڑے مقصد کی تمنا کرتے ہیں، مگر اپنے اندر اس کا ظرف نہیں بناتے۔ اقبال کہتے ہیں کہ تمنا سے پہلے تعمیر کرو۔ پہلے دل پیدا کرو، پھر حقیقت خود اپنی راہ پا لے گی۔
یہ شعر بڑی سادگی سے کہتا ہے کہ عظیم تجربات اور عظیم نسبتیں معمولی دلوں میں نہیں سماتیں۔ ان کے لیے محمل درکار ہوتا ہے۔
مثال
اگر کسی شخص کو بڑی ذمہ داری دے دی جائے مگر اس نے صبر، دیانت اور تحمل پیدا نہ کیا ہو تو وہ اس منصب کو سنبھال نہیں پاتا۔ منصب سے پہلے ظرف چاہیے۔ یہی “محمل” کی ایک آسان مثال ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق حقیقت کے حسن کو پانے کے لیے پہلے ایسا دل درکار ہے جو اس کا حامل بن سکے۔ تمنا کافی نہیں، ظرف کی تعمیر ضروری ہے۔