رموز بے خودی

در صف شاهنشان یکتاستی

در صف شاهنشان یکتاستی

فقر او از تربتش پیداستی

ترجمہ

بادشاہوں کی صف میں وہ یکتا تھا، اور اس کا فقر اس کی تربت ہی سے نمایاں ہو جاتا تھا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں عالمگیر کی انفرادیت کو ایک ایسے زاویے سے دکھاتے ہیں جو ان کی پوری فکر کے مرکز سے جڑا ہوا ہے۔ وہ اسے صرف دوسرے بادشاہوں سے زیادہ کامیاب یا زیادہ طاقتور نہیں کہتے، بلکہ “یکتا” اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی بادشاہی کے اندر فقر کی ایک باطنی شان موجود تھی۔ یہی فقر اس کی شناخت کو دوسروں سے جدا کرتا ہے۔ شعر کے مطابق:

صفِ شاہان میں یکتائی:

بادشاہوں کی صف عام طور پر ایک جیسی چیزوں سے پہچانی جاتی ہے: تخت، فوج، خزانہ، جاہ و جلال، اور فرمانروائی۔ اقبال کہتے ہیں کہ عالمگیر ان سب کے درمیان بھی یکتا تھا۔ اس کی انفرادیت ظاہری آلاتِ اقتدار میں نہیں، بلکہ اس نسبت میں تھی جو اس کے دل کو دنیا کی چکاچوند سے الگ رکھتی تھی۔

یعنی دو بادشاہ بظاہر ایک جیسے دکھائی دے سکتے ہیں، مگر ان کے باطن کا رخ انہیں زمین آسمان کا فرق دے دیتا ہے۔ اقبال اسی باطنی فرق کو اصل فرق مانتے ہیں۔

فقر کا تربت سے ظاہر ہونا:

یہاں اقبال ایک نہایت لطیف اور بامعنی نکتہ لاتے ہیں: کسی شخص کا فقر اس کی زندگی میں دعووں سے نہیں بلکہ اس کے انجام، اس کی یادگار اور اس کی تربت سے پہچانا جا سکتا ہے۔ تربت اس بات کی علامت بن جاتی ہے کہ انسان نے دنیا سے کیا لے کر نہیں، کیا چھوڑ کر گیا۔

اگر کسی بادشاہ کی قبر بھی اس کی سادگی، بے نیازی اور جواب دہی کا پتہ دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فقر اس کے لیے محض قول نہ تھا بلکہ باطن کی مستقل کیفیت تھی۔

اقبالی فقر کی شان:

فقر اقبال کے ہاں ترکِ دنیا کے منفی معنی میں نہیں آتا۔ یہ وہ اندرونی آزادی ہے جس سے انسان اقتدار رکھتے ہوئے بھی اس کا بندہ نہیں بنتا۔ جب شاعر کہتا ہے کہ عالمگیر کا فقر اس کی تربت سے بھی ظاہر ہے، تو وہ دراصل اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اس کی سلطنت نے اس کے دل کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں نہیں لیا تھا۔

یہی فقر بادشاہی کو نفس کے کھیل سے اٹھا کر امانت کے درجے میں لاتا ہے۔

مرگ کے بعد کا سچا تعارف:

موت ہر ظاہری پردے کو ہٹا دیتی ہے۔ خطاب، لباس، دربار، محافظ، اور جشن سب وہیں رہ جاتے ہیں۔ جو باقی رہتا ہے وہ باطن کی سچائی ہوتی ہے۔ اس لیے تربت ایک خاموش مگر بہت سچی شہادت بن جاتی ہے۔ اقبال ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ انسان کی اصل قیمت اس کے مرنے کے بعد بھی جھلکتی ہے، اگر اس کی زندگی کسی حقیقی باطنی مرکز سے بندھی ہو۔

اسی لیے شاعر عالمگیر کے فقر کی دلیل اس کے بعد کے نشان میں تلاش کرتا ہے، محض تعریف کے لفظوں میں نہیں۔

ہمارے لیے سبق:

یہ شعر ہمیں اپنے انجام کے بارے میں بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ ہم جو کچھ حاصل کرتے ہیں، کیا وہ ہمارے دل کو آزاد کر رہا ہے یا مزید باندھ رہا ہے؟ ہماری زندگی کے بعد اگر کچھ رہ جائے گا تو وہ ہمارے اکاؤنٹ نہیں، ہمارا اثر، ہماری سادگی، ہماری نیت اور ہمارا کردار ہوگا۔

اقبال اسی لیے فقر کو ایک زندہ معیار بناتے ہیں: تمہاری اصل قدر اس بات سے کھلے گی کہ دنیا پا کر بھی تم نے اپنے دل کو کس حد تک دنیا سے بچایا۔

مثال

کبھی کسی بڑے منصب والے شخص کی وفات کے بعد اس کی سادہ زندگی، دیانت اور کم خرچی کے واقعات زیادہ یاد رہ جاتے ہیں، نہ کہ اس کے دفتر کی شان۔ یہی چیز بتاتی ہے کہ اس کے اندر واقعی کوئی اخلاقی مرکز موجود تھا۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک عالمگیر کی یکتائی اس کی بادشاہی میں نہیں بلکہ اس فقر میں تھی جو اس کے انجام اور اس کی تربت سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اصل عظمت وہی ہے جس میں اقتدار کے باوجود دل آزاد اور بے نیاز رہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button