رموز بے خودی

تخم الحادی که اکبر پرورید

تخم الحادی که اکبر پرورید

باز اندر فطرت دارا دمید

ترجمہ

الحاد کا وہ بیج جسے اکبر نے پروان چڑھایا تھا، پھر سے بادشاہی فطرت کے اندر سانس لینے لگا۔

تشریح

یہ شعر اقبال کے اس تاریخی تجزیے کی نمائندگی کرتا ہے جس میں وہ بعض سیاسی رویوں کو محض انتظامی یا تہذیبی تجربہ نہیں سمجھتے بلکہ انہیں دینی احساس کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ یہاں “تخمِ الحاد” ایک فکری و روحانی انحراف کی علامت ہے، اور اقبال اسے اکبر کے عہد سے جوڑ کر بتاتے ہیں کہ غلط فکر ایک بار پیدا ہو جائے تو وہ بعد کے زمانوں میں بھی دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے۔ شعر کے مطابق:

تخم کی استعاره:

بیج فوری طور پر درخت نہیں بنتا، مگر زمین میں پڑا رہ کر موقع پاتے ہی بڑھنے لگتا ہے۔ اقبال اسی تصویر سے بتاتے ہیں کہ بعض فکری رجحانات وقتی طور پر دب جائیں تو بھی ان کا اثر باقی رہتا ہے۔ اگر اجتماعی فطرت، ریاستی مزاج یا تہذیبی ذہن دوبارہ ان کے لیے سازگار ہو جائے، تو وہ پھر ابھر سکتے ہیں۔

اس لیے شاعر صرف ایک ماضی کے بادشاہ پر تنقید نہیں کر رہا، بلکہ ایک مسلسل تاریخی خطرے کی نشاندہی کر رہا ہے۔

الحاد سے مراد کیا ہے:

اقبال کے ہاں یہاں الحاد کا مفہوم صرف صریح خدا انکاری نہیں، بلکہ وہ فکری رویہ بھی ہے جو وحی، شریعت اور دینی مرکزیت کو کمزور کر دے۔ جب اقتدار خود کو دین سے بالاتر سمجھنے لگے، یا دین کو محض ایک رسمی عنصر بنا دے، تو اقبال اسے اسی “تخم” کی نشوونما سمجھتے ہیں۔

یعنی مسئلہ صرف عقیدے کی سطح پر نہیں، تہذیبی ترجیحات کی سطح پر بھی ہے۔ اگر خدا کی ہدایت کے بجائے خود انسان کی خودسری اصل مرکز بن جائے تو الحاد کا مزاج جنم لیتا ہے۔

فطرتِ دارا میں دمیدن:

“دارا” بادشاہ اور صاحبِ اقتدار کی علامت ہے۔ اقبال کے نزدیک سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ الحادی یا خودسرانہ رجحان عوام میں نہیں بلکہ اقتدار کی فطرت میں سما جائے۔ جب یہ رجحان اوپر بیٹھ جائے تو پھر اس کے اثرات پورے معاشرے میں پھیلتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ وہ فکر کی اصلاح کو قیادت اور اقتدار کی اصلاح سے الگ نہیں کرتے۔ اگر حاکم کی فطرت میں دین کے بجائے نفس کا غلبہ ہو تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔

تاریخ سے اقبال کا سبق:

اقبال تاریخ کو سادہ قصہ نہیں سمجھتے، بلکہ اسے زندہ تنبیہ مانتے ہیں۔ یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ ملت کے انحرافات عموماً اچانک نہیں آتے، بلکہ پہلے وہ ایک “بیج” کی صورت میں پیدا ہوتے ہیں، پھر آہستہ آہستہ مزاج، نظام اور تہذیب میں سرایت کرتے ہیں۔ اس لیے اہلِ ایمان کو ان کے آغاز ہی پر بیدار ہونا چاہیے۔

شاعر کی تیزی دراصل اسی بیداری کی کوشش ہے تاکہ ہم بیماری کو درخت بننے سے پہلے پہچان لیں۔

آج کی معنویت:

یہ شعر آج بھی یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ہماری اجتماعی فطرت میں کون سے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ کیا ہم اپنے فیصلوں، تعلیمی ترجیحات اور سیاسی رویوں میں دینی مرکزیت کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں، یا آہستہ آہستہ ایسے تصورات پروان پا رہے ہیں جو حق کے بجائے نفس اور دنیا کو اصل معیار بنا دیں؟

اقبال کا اشارہ یہی ہے کہ فکری انحراف کو ابتدا ہی میں پہچاننا اور روکنا ضروری ہے، ورنہ وہ بعد میں پوری تہذیب کے مزاج پر چھا سکتا ہے۔

مثال

کسی ادارے میں اگر ایک غلط روایت شروع ہو جائے، مثلاً اصول کے بجائے ذاتی پسند پر فیصلے ہونے لگیں، تو ابتدا میں وہ چھوٹی لگتی ہے۔ مگر وقت کے ساتھ وہی چیز پوری ثقافت کا حصہ بن جاتی ہے۔ اقبال کے “تخم” کی مثال بھی اسی طرح ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک فکری انحراف ایک بیج کی طرح ہے جو کبھی بھی دوبارہ نشوونما پا سکتا ہے، خاص طور پر جب اقتدار کی فطرت خود دینی مرکزیت سے ہٹنے لگے۔ اس لیے ملت کو آغاز ہی میں ایسے رجحانات سے خبردار رہنا چاہیے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button