ساز برق آہنگ او ننواختہ
ساز برق آہنگ او ننواختہ
نغمہ اش در پردہ نا پرداختہ
ترجمہ
اس (خام فرد) کا بجلی جیسا پرجوش ساز ابھی بجایا نہیں گیا، اور اس کا نغمہ ابھی پردے ہی میں ہے، ظاہر نہیں ہوا۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں خام فرد کی پوشیدہ صلاحیتوں کو ایک ان بجے ساز اور ان چھڑے نغمے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ شعر کے مطابق:
ان بجا ساز:
اقبال کہتے ہیں کہ اس فرد کا ساز بجلی جیسا پرجوش اور طاقتور ہے، مگر ابھی وہ بجایا نہیں گیا۔ یعنی اس کے اندر بے پناہ صلاحیت موجود ہے مگر وہ ابھی حرکت میں نہیں آئی۔
اس کی قوت اور جوش ابھی خفتہ ہیں، اور کسی ماہر ہاتھ کے منتظر ہیں جو اس ساز کو چھیڑے اور اس کی آواز کو ظاہر کرے۔
پردے میں چھپا نغمہ:
شاعر کہتے ہیں کہ اس کا نغمہ ابھی پردے ہی میں ہے، ظاہر نہیں ہوا۔ یعنی اس کی اندرونی خوبیاں اور صلاحیتیں ابھی دنیا کے سامنے نہیں آئیں۔
یہ نغمہ اس وقت تک خاموش ہے جب تک کوئی رہنما اسے پردے سے نکال کر عمل اور اظہار کی دنیا میں نہ لائے۔
پوشیدہ صلاحیت:
اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ فرد کے اندر بے پناہ صلاحیتیں پوشیدہ ہوتی ہیں، مگر تربیت اور رہنمائی کے بغیر وہ ظاہر نہیں ہوتیں۔
رہنمائی کی ضرورت:
اس شعر میں اقبال آنے والے مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فرد کی ان پوشیدہ صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے ایک رہنما یعنی صاحبِ دل کی ضرورت ہے۔
مثال
جیسے ایک قیمتی ساز جب تک ماہر فنکار کے ہاتھ میں نہ آئے، خاموش پڑا رہتا ہے اور اس کی خوبصورت آواز پوشیدہ رہتی ہے، ویسے ہی فرد کی صلاحیتیں رہنمائی کے بغیر ظاہر نہیں ہوتیں۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ خام فرد کے اندر پرجوش صلاحیتیں پوشیدہ ہیں، مگر وہ تربیت اور رہنمائی کے بغیر ظاہر نہیں ہوتیں، جیسے ان بجا ساز کا نغمہ پردے میں رہتا ہے۔
