رموز بے خودی

نکتہ ہا چوں تیغ پولاد است تیز

نکتہ ہا چوں تیغ پولاد است تیز

گر نمی فہمی ز پیش ما گریز

ترجمہ

(میرے) نکتے فولاد کی تلوار کی طرح تیز ہیں۔ اگر تو ان کا فہم نہیں رکھتا تو ہمارے سامنے سے دور ہو جا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں اپنے کلام کی گہرائی، اثر اور اس کے لیے فہم کی شرط کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کے بیان کردہ نکتے سرسری نہیں بلکہ نہایت گہرے اور کاٹ دار ہیں۔ شعر کے مطابق:

نکتوں کی تیزی:

شاعر فرماتے ہیں کہ ان اشعار میں بیان کیے گئے نکتے اور معانی فولادی تلوار کی طرح تیز اور کاٹ دار ہیں۔ ان میں گہرائی، وزن اور اثر ہے۔

یہ نکتے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں اور سوچ کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

فہم کی شرط:

ان نکتوں کو سمجھنے کے لیے اہلیت، غور و فکر اور بصیرت درکار ہے۔ سرسری نظر سے ان کی حقیقت تک پہنچنا ممکن نہیں۔

جو ان کی گہرائی کو نہ سمجھ سکے، اس کے لیے یہ محض الفاظ ہیں، جبکہ اہلِ فہم کے لیے یہ حکمت کے خزانے ہیں۔

سنجیدگی کا تقاضا:

شاعر متنبہ کرتے ہیں کہ جو ان معانی کو سمجھنے کی صلاحیت نہ رکھے، وہ ان سے سرسری انداز میں نہ الجھے۔ یہ کلام سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔

کلام کی گہرائی:

اقبال یہ واضح کرتے ہیں کہ ان کا کلام تفریح یا سرسری مطالعے کے لیے نہیں بلکہ گہرے مطالعے اور تدبر کے لیے ہے۔

مثال

جیسے تیز دھار تلوار کو سنبھالنے اور استعمال کرنے کے لیے مہارت درکار ہے ورنہ وہ خود استعمال کرنے والے کو نقصان دیتی ہے، ویسے ہی ان گہرے نکتوں کو سمجھنے کے لیے فہم و بصیرت ضروری ہے۔

خلاصہ

اس شعر میں شاعر بتاتے ہیں کہ ان کے بیان کردہ نکتے فولادی تلوار کی طرح تیز اور گہرے ہیں، جنہیں سمجھنے کے لیے سنجیدہ فہم و بصیرت کی ضرورت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button