تو خودی از بیخودی نشناختی
تو خودی از بیخودی نشناختی
خویش را اندر گماں انداختی
ترجمہ
(اے مخاطب!) تو خودی اور بے خودی کو نہ پہچان سکا، اور یوں تو نے اپنے آپ کو وہم و گمان میں ڈال دیا۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں خودی اور بے خودی کی پہچان نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان دونوں حقیقتوں کی ناشناسی ہی انسان کو وہم و گمان میں مبتلا کر دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:
خودی و بے خودی کی ناشناسی:
اے مخاطب! افسوس کہ تو خودی (اپنی پہچان اور اپنی ذات کے شعور) اور بے خودی (ملت میں فنا ہو کر بقا پانے) کے فرق اور رشتے کو نہ سمجھ سکا۔
یہ دونوں مل کر انسان کی تکمیل کرتے ہیں، مگر جو ان کی حقیقت نہ جانے، وہ زندگی کا اصل راز نہیں پا سکتا۔
وہم و گمان میں الجھنا:
اسی ناسمجھی کے باعث تو نے اپنے آپ کو خیالات اور گمان کی دنیا میں الجھا لیا اور حقیقت سے دور ہو گیا۔
حقیقت کی روشنی سے محروم ہو کر انسان وہم اور بے یقینی کے اندھیروں میں بھٹکتا رہتا ہے، اور اپنی اصل منزل کو نہیں پہچان پاتا۔
پہچان کی ضرورت:
خودی اور بے خودی کی صحیح پہچان ہی فرد کو اس کے حقیقی مقام اور مقصد تک پہنچاتی ہے۔ اسی سے وہ جانتا ہے کہ کہاں اپنی ذات کو سنوارنا ہے اور کہاں اسے ملت میں شامل کرنا ہے۔
حقیقت سے دوری کا نقصان:
اقبال متنبہ کرتے ہیں کہ جو انسان اس پہچان سے محروم رہے، وہ زندگی بھر وہم و گمان کا شکار رہتا ہے اور اپنی اصل قوت سے ناواقف رہتا ہے۔
مثال
جیسے کوئی شخص اپنی اصل قدر و قیمت اور صلاحیت کو نہ جانے تو زندگی بھر شک، احساسِ کمتری اور بے یقینی میں رہتا ہے، ویسے ہی خودی اور بے خودی کو نہ پہچاننے والا وہم و گمان میں الجھا رہتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال افسوس کرتے ہیں کہ انسان خودی اور بے خودی کو نہ پہچان کر اپنے آپ کو وہم و گمان میں ڈال لیتا ہے اور اپنی اصل حقیقت سے محروم رہتا ہے۔



