پختہ تر از گرمی صحبت شود
پختہ تر از گرمی صحبت شود
تا بمعنی فرد ہم ملت شود
ترجمہ
وہ (فرد) صحبت کی گرمی سے اور زیادہ پختہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ فرد کے روپ میں خود ملت بن جاتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں باہمی صحبت اور میل جول کو فرد کی پختگی اور اس کے ملت میں ڈھلنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اجتماعی زندگی فرد کے کردار کو نکھارتی اور اسے ملت کا نمائندہ بنا دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:
صحبت کی گرمی سے پختگی:
فرد جب اپنی قوم کے افراد کے ساتھ میل جول اور صحبت رکھتا ہے تو اس صحبت کی گرمی سے اس کا کردار اور اس کا شعور مزید مضبوط اور پختہ ہو جاتا ہے۔
دوسروں کے تجربات، ان کی سوچ اور ان کی رفاقت فرد کی شخصیت کو تراشتی ہے اور اس کی خامیوں کو دور کرتی ہے۔
فرد کا ملت میں ڈھلنا:
یہ پختگی اسے اس مقام پر لے آتی ہے کہ دیکھنے میں تو وہ ایک فرد ہوتا ہے، مگر اس کی سوچ، اس کے جذبات اور اس کے کردار میں پوری ملت جھلکتی ہے۔
وہ اپنے مفاد سے اوپر اٹھ کر اجتماعی مفاد کا سوچنے لگتا ہے، اور یوں اس کی انفرادیت ملت کے رنگ میں رنگ جاتی ہے۔
فرد اور ملت کی وحدت:
یوں فرد اور ملت کا فرق مٹ جاتا ہے۔ فرد ملت کی نمائندگی کرنے لگتا ہے اور ملت اسی فرد کے کردار میں ظاہر ہوتی ہے۔
اجتماعیت کی برکت:
اقبال کے نزدیک یہی اجتماعی صحبت کی سب سے بڑی برکت ہے کہ وہ ایک عام فرد کو ملت کا آئینہ بنا دیتی ہے۔
مثال
جیسے لوہا آگ کی حرارت میں تپ کر فولاد بن جاتا ہے اور اپنی کمزوری چھوڑ کر مضبوطی اختیار کر لیتا ہے، ویسے ہی فرد صحبت کی گرمی میں پختہ ہو کر ملت کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال بتاتے ہیں کہ باہمی صحبت فرد کو اتنا پختہ کر دیتی ہے کہ وہ فرد کے روپ میں ملت بن جاتا ہے، اور یہی اجتماعی زندگی کا اصل ثمر ہے۔


