رموز بے خودی

گریه های او ز بالین بی نیاز

گریه های او ز بالین بی نیاز

گوهر افشاندی بدامان نماز

ترجمہ

ان کے آنسو ایسے تھے کہ انہیں آرام کے بستر کی حاجت نہ رہی، اور ان کے یہ اشک نماز کے دامن میں گویا موتیوں کی طرح بکھرتے رہے۔

تشریح

اقبال اس شعر میں حضرت فاطمہ الزہراء کی عبادت، شب بیداری، اور قلبی رقّت کو نہایت لطیف انداز میں پیش کرتے ہیں۔ “بالین بی نیاز” کا مطلب یہ ہے کہ ان کا دل اس قدر عبادت اور قربِ الٰہی سے وابستہ تھا کہ وہ دنیاوی آرام اور بستر کی راحت سے بے نیاز ہو جاتی تھیں۔ یہاں بے نیازی سے مراد جسمانی ضرورت کا انکار نہیں، بلکہ اس روحانی جذبے کا بیان ہے جس میں انسان خدا کی یاد میں ایسا محو ہو جائے کہ آسائش ثانوی محسوس ہونے لگے۔ اقبال حضرت فاطمہ الزہراء کی راتوں کو اسی معنی میں دیکھتے ہیں۔

“گوهر افشاندی بدامان نماز” میں آنسوؤں کو گوہر کہا گیا ہے۔ گوہر قیمتی موتی کو کہتے ہیں، اس لیے اقبال یہاں رونے کو کم زوری یا محض غم کی کیفیت نہیں قرار دیتے، بلکہ اسے ایک قیمتی روحانی کیفیت بناتے ہیں۔ ان کے اشک نماز کے دامن میں گرتے ہیں، یعنی یہ آنسو عبادت، خشوع، محبت، اور بندگی کے آنسو ہیں۔ یہ رونا کسی محرومی یا دنیاوی شکست کا نہیں، بلکہ قربِ حق، شوقِ عبادت، اور دل کی پاکیزہ نرمی کا رونا ہے۔

بالین سے بے نیازی:

یہ تعبیر اس کیفیت کی علامت ہے جس میں روحانی شوق انسان کو سہل پسندی سے اوپر اٹھا دیتا ہے۔ وہ آرام کو مقصد نہیں بناتا، بلکہ اسے ضرورت کی حد تک رکھتا ہے اور دل کو اعلیٰ تر نسبتوں سے وابستہ کر لیتا ہے۔

حضرت فاطمہ الزہراء کے باب میں یہ بے نیازی عبادت کے ذوق، صبر، اور خدا رخی کی علامت بن جاتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی باطنی وقار ان کے اسوہ کو بلند کرتا ہے۔

اشک بطور گوہر:

ہر آنسو گوہر نہیں ہوتا۔ وہ اشک قیمتی ہیں جو دل کی پاکیزگی، خوفِ خدا، محبتِ حق، اور سچی بندگی سے نکلیں۔ اقبال نے انہی اشکوں کو گوہر کہا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت صرف ظاہری حرکات کا نام نہیں، بلکہ اس میں دل کی نرمی اور باطن کی شرکت بھی ضروری ہے۔ حضرت فاطمہ الزہراء کی نماز اسی باطنی کیفیت سے روشن ہے۔

دامانِ نماز:

نماز یہاں محض فرض کی ادائیگی نہیں بلکہ ایک ایسی فضا ہے جس میں دل کے قیمتی جذبات بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ دامنِ نماز میں گوہر افشانی کا مطلب یہ ہے کہ عبادت ان کے پورے باطن کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔

اقبال کے نزدیک ایسی نماز ہی انسان کو بلند کرتی ہے، کیونکہ اس میں جسم، زبان، اور دل تینوں شریک ہوتے ہیں۔ حضرت فاطمہ الزہراء کی عبادت اسی جامع بندگی کی مثال ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج عبادت کبھی کبھی عادت بن کر رہ جاتی ہے، اور دل کی شرکت کم ہو جاتی ہے۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل عبادت وہ ہے جس میں انسان کا دل نرم ہو، آنکھ نم ہو، اور دنیا کی راحت سے اوپر ایک نسبت جاگ اٹھے۔

یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ روحانی زندگی میں خشوع، اشک، اور شب بیداری کا اپنا مقام ہے۔ حضرت فاطمہ الزہراء کا اسوہ دکھاتا ہے کہ بندگی کی اصل خوب صورتی دل کی سچی حاضری میں ہے۔

مثال

جیسے کوئی شخص کسی محبوب کی یاد میں بیٹھا ہو تو نرم بستر بھی بے معنی لگنے لگتا ہے، ویسے ہی جس دل میں خدا کی یاد غالب ہو جائے وہ عبادت میں ایسی لذت پاتا ہے کہ آسائش پس منظر میں چلی جاتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں حضرت فاطمہ الزہراء کی عبادت کو ایسی روحانی کیفیت کے طور پر پیش کرتے ہیں جس میں آرام کی طلب کم اور نماز میں بہنے والے قیمتی اشک زیادہ نمایاں ہیں۔ یہی اشک ان کی بندگی کے گوہر ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button