سر زند از ماضی تو حال تو
سر زند از ماضی تو حال تو
خیزد از حال تو استقبال تو
ترجمہ
تیرا حال تیرے ماضی سے ابھرتا ہے، اور تیرا استقبال یعنی مستقبل تیرے حال سے اٹھتا ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال زمانی تسلسل کو نہایت سادہ مگر عمیق صورت میں بیان کرتے ہیں۔ حال کوئی اچانک آسمان سے گرنے والی شے نہیں؛ وہ ماضی سے پھوٹتا ہے۔ اور مستقبل بھی کوئی بالکل اجنبی، الگ تھलग، یا خود بخود بن جانے والی دنیا نہیں؛ وہ حال کی کوکھ سے نکلتا ہے۔ یہ شعر خودی، تاریخ، ملت، اور حیات کے درمیان تمام ربطوں کو ایک سادہ قانون میں بدل دیتا ہے: تمہارے آج کی جڑ تمہارے کل میں ہے، اور تمہارے آنے والے کل کی جڑ تمہارے آج میں ہے۔
اقبال کے نزدیک اس قانون کو بھول جانا خودی کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ جو آدمی اپنے حال کو ماضی سے بے ربط سمجھتا ہے، وہ اپنی بنیاد نہیں پہچانتا۔ اور جو مستقبل کو حال سے بے ربط سمجھتا ہے، وہ ذمہ داری کی حس کھو دیتا ہے۔ ملت بھی اگر یہ سمجھنے لگے کہ آج کی حالت کا اس کی سابقہ تاریخ سے کوئی تعلق نہیں، یا آنے والا زمانہ موجودہ حال کی روش سے متاثر نہیں ہوگا، تو وہ اپنی تاریخ سازی کی قوت کھو بیٹھے گی۔ اقبال اسی غلطی کی اصلاح کر رہے ہیں۔
حال کا ماضی سے سرزد ہونا:
“سر زند” میں پھوٹنے، ابھرنے، اور نمودار ہونے کا معنی ہے۔ حال ماضی سے اسی طرح نکلتا ہے جیسے کونپل بیج سے۔ اس میں انقطاع نہیں، نمو ہے۔ اقبال اس تعبیر کے ذریعے ماضی کو مردہ ذخیرہ نہیں، حال کا منبع ثابت کرتے ہیں۔
اس لیے حال کو سمجھنے کے لیے ماضی کا شعور ضروری ہے۔ جسے اپنی جڑ کا علم نہ ہو وہ اپنی موجودہ صورت کو بھی سطحی طور پر ہی سمجھے گا۔
استقبال کا حال سے اٹھنا:
استقبال سے مراد آنے والا زمانہ، مستقبل، یا وہ رخ ہے جس کی طرف زندگی جا رہی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ مستقبل حال ہی سے خیزتا ہے۔ یعنی آج کے فیصلے، آج کی تربیت، آج کی غفلت یا بیداری، یہی سب مل کر فردا کی شکل بناتے ہیں۔
اس میں ملت کے لیے بڑی نصیحت ہے: مستقبل محض دعا سے نہیں، حال کی شعوری تعمیر سے بنتا ہے۔ جو قوم اپنے حال کو سنوارتی ہے، وہی اپنے استقبال کو بھی بدلتی ہے۔
تسلسل اور ذمہ داری:
یہ شعر تاریخ کو تقدیر کے جامد تصور سے الگ کرتا ہے۔ نہ ماضی ایسی دیوار ہے جسے بدلا نہ جا سکے، نہ مستقبل ایسی دھند ہے جس پر انسان کا کوئی اثر نہ ہو۔ حال ان دونوں کے درمیان ذمہ دار مقام ہے۔
اقبال چاہتے ہیں کہ انسان اور ملت دونوں اپنے حال کی قدر جانیں، کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں ماضی کا حاصل مستقبل کی سمت بنتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج لوگ یا تو ماضی کو برا بھلا کہہ کر اس سے کٹ جانا چاہتے ہیں، یا مستقبل کو محض خواب بنا دیتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ یہ دونوں رویے سطحی ہیں۔ ماضی حال میں زندہ ہے، اور حال مستقبل کی پیدائش گاہ ہے۔
یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ اپنے حال کو سنجیدگی سے لیں۔ نہ ماضی سے بے زاری اختیار کریں، نہ مستقبل کو قسمت پر چھوڑیں۔ خودی کی پختگی یہی ہے کہ آدمی تینوں زمانوں کو ایک زندہ سلسلے میں دیکھے۔
مثال
جیسے درخت کا موجودہ تنا پرانے بیج اور جڑ سے پیدا ہوتا ہے اور اسی تنے سے نئی شاخیں اور پھل نکلتے ہیں، ویسے ہی حال ماضی سے ابھرتا اور مستقبل حال سے پیدا ہوتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں وقت کے بڑے قانون کو واضح کرتے ہیں: حال ماضی سے نکلتا ہے اور مستقبل حال سے۔ یہی ربطِ ایام خودی، ملت، اور تاریخ کے معنی کو قائم رکھتا ہے۔