خویش را بر پشت باد اسوار کن
خویش را بر پشت باد اسوار کن
یعنی این جمازه را ماهار کن
ترجمہ
اپنے آپ کو ہوا کی پشت پر سوار کر، یعنی اس تیز رفتار سواری کو قابو میں لے اور اس کی مہار تھام لے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال تسخیرِ کائنات کے مضمون کو ایک نہایت متحرک اور جاندار تصویر میں بدل دیتے ہیں۔ “بر پشت باد سوار شدن” محض شاعرانہ مبالغہ نہیں، بلکہ اس بات کا استعارہ ہے کہ انسان فطرت کی بے مہار قوتوں کو سمجھ کر ان پر سوار ہونا سیکھے۔ ہوا قدیم دنیا میں سرعت، آزادی، مسافت، اور ناقابلِ گرفت قوت کی علامت تھی۔ اقبال کہتے ہیں کہ تم اس پر سوار ہو جاؤ۔ یعنی جو چیز بظاہر تم سے زیادہ آزاد، زیادہ تیز، اور زیادہ طاقتور دکھائی دیتی ہے، اسے خوف کے ساتھ نہ دیکھو؛ اسے سمجھو، اس سے ربط پیدا کرو، اور پھر اسے اپنی حرکت کا ذریعہ بنا لو۔
دوسرے مصرعے میں “جمازه” کا لفظ اس معنی کو زمینی اور عملی بنا دیتا ہے۔ جمازه صحرائی تیز رفتار سواری کی علامت ہے، اور “ماہار” یعنی مہار ڈالنا، اسے قابو میں لانا، اس کی رفتار کو سمت دینا۔ اس طرح شعر یہ سکھاتا ہے کہ فطرت کی قوتیں خود بخود تمہاری خدمت نہیں کریں گی؛ تمہیں انہیں مہار ڈالنی ہوگی۔ یہ مہار جبر کی نہیں، علم، تدبیر، فن، اور ارادے کی مہار ہے۔ اقبال کے نزدیک صرف طاقت کافی نہیں، سمت بھی چاہیے؛ صرف رفتار کافی نہیں، اختیار بھی چاہیے۔ یہ شعر اسی اختیارِ متحرک کا اعلان ہے۔
ہوا کی پشت پر سوار ہونا:
ہوا قدیم انسان کے لیے ایک راز بھی تھی اور ایک چیلنج بھی۔ اسے دیکھا نہیں جا سکتا مگر اس کے آثار ہر طرف ہیں۔ اقبال کے نزدیک اسی قسم کی غیر مرئی قوتیں دنیا میں بے شمار ہیں۔ ان سے خوف کھانے کے بجائے ان کی زبان سیکھنی چاہیے۔ جب انسان ہوا، بجلی، رفتار، فاصلے، اور طاقت کے اصول سمجھ لیتا ہے تو وہ ان کے ہاتھ کا کھلونا نہیں رہتا بلکہ ان پر سوار ہونے لگتا ہے۔
یہ تعبیر جدید معنی بھی رکھتی ہے۔ سفر، مواصلت، ہوا کی قوت، اور ہر وہ تکنیکی یا تمدنی ذریعہ جو فاصلہ کم کرے اور حرکت بڑھائے، سب اس شعر کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔ اقبال کے مزاج میں یہی چیز مرکزی ہے: قدرت کی قوتیں بکھری نہ رہیں، انسانی مقصد کی سواری بن جائیں۔
جمازه کی مہار:
جمازه رفتار کی علامت ہے، مگر بے مہار رفتار فائدہ نہیں دیتی۔ اگر تیز سواری کی لگام ہاتھ میں نہ ہو تو وہ مسافر کو منزل پر نہیں بلکہ حادثے کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اقبال اسی لیے “ماہار کن” کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک تسخیرِ فطرت میں اخلاقی اور عقلی نظم بھی ضروری ہے۔
یہی اصول قوموں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ محض جوش، محض ٹیکنالوجی، محض طاقت، یا محض تیزی کافی نہیں۔ اگر ان پر مقصد کی مہار نہ ہو تو وہ قوم کو بھی منتشر کر سکتے ہیں۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان طاقت کے ساتھ حکمت، اور رفتار کے ساتھ سمت بھی حاصل کرے۔
تسخیر سے اختیار تک:
اس شعر میں اقبال تسخیر کو صرف دریافت یا استعمال تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ اختیار تک لے جاتے ہیں۔ فطرت کی قوتوں کے ساتھ ایسا تعلق قائم کرو کہ وہ تمہاری سواری بن جائیں۔ اس کے لیے علم درکار ہے، محنت درکار ہے، فنون درکار ہیں، اور سب سے بڑھ کر اس اعتماد کی ضرورت ہے کہ انسان فطرت کا قیدی نہیں، اس کے اندر خدا کی دی ہوئی تصرفی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال محض زاہدانہ بے تعلقی نہیں سکھاتے۔ ان کے نزدیک مومن کا مقام یہ نہیں کہ وہ ہوا کے زور سے ڈرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس کی پشت پر سوار ہونے کی جرات پیدا کرے۔ یہ جرات اندھی نہیں، علمی اور ذمہ دارانہ جرات ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہوا کی پشت پر سواری صرف شعری تعبیر نہیں رہی۔ مواصلات، سفر، توانائی، رفتار، اور تکنیکی وسائل سب اسی مضمون کے نئے چہرے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان قوتوں پر سوار ہیں یا یہ ہم پر سوار ہیں؟ کیا ہم ان کے مالک ہیں یا محض صارف؟ اقبال کا سوال آج بھی بالکل زندہ ہے۔
یہ شعر امت کو دعوت دیتا ہے کہ وہ قدرتی اور تمدنی قوتوں کی مہار اپنے ہاتھ میں لے۔ فاصلوں، رفتاروں اور طاقتوں کے ساتھ ایسا رشتہ قائم کرے جو خودی کو وسیع کرے، نہ کہ اسے مزید محتاج بنائے۔ اقبال کے نزدیک یہی ہوا کی پشت پر سواری ہے۔
مثال
جیسے ایک ماہر سوار تیز گھوڑے کی طاقت سے خوف کھانے کے بجائے اس کی لگام سنبھال کر اسے منزل تک پہنچنے کا وسیلہ بناتا ہے، ویسے ہی زندہ قوم قدرتی قوتوں کو قابو میں لا کر انہیں اپنی ترقی کا ذریعہ بناتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں سکھاتے ہیں کہ قدرت کی طاقتور اور تیز قوتوں سے مرعوب ہونے کے بجائے انہیں علم اور حکمت کی مہار سے اپنے مقصد کے تابع کرنا چاہیے۔ یہی تسخیر، یہی اختیار، اور یہی وسعتِ حیات کا راستہ ہے۔
