از تو می آید اگر کار شگرف
از تو می آید اگر کار شگرف
از دمی گرمی گداز این شیر برف
ترجمہ
اگر تجھ سے کوئی عظیم کارنامہ سرزد ہو سکتا ہے تو اپنی ایک سانس کی گرمی سے اس برفیلے شیر کو پگھلا دے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال مومن کی باطنی حرارت کو ایک انقلابی قوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ “کار شگرف” سے مراد کوئی معمولی کامیابی نہیں بلکہ ایسا تخلیقی، جرات مند اور تاریخ ساز کام ہے جو جمود توڑ دے، نئی راہ پیدا کرے اور دنیا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اقبال اس بڑی کارگزاری کا معیار بھی بتاتے ہیں: اگر واقعی تمہارے اندر وہ قوت ہے تو پھر اپنے اندر کی گرمی کو عمل میں بدل کر اس “شیر برف” کو پگھلا دو۔ یعنی وہ بڑی، سرد، خوف ناک اور منجمد قوت جو سامنے پہاڑ بن کر کھڑی ہے، اسے اپنے زندہ نفس کی تاثیر سے نرم اور رواں کر دو۔
“شیر برف” بہت حسین اور گہرا استعارہ ہے۔ شیر قوت، ہیبت اور غلبے کی علامت ہے، جبکہ برف سردی، جمود، بے حرکتی اور منجمد طاقت کی علامت۔ جب یہ دونوں ملتے ہیں تو ایک ایسی قوت کا تصور بنتا ہے جو بظاہر عظیم ہے مگر اندر سے سرد اور بے روح ہے۔ اقبال کے نزدیک زندہ انسان کا ایک گرم دم، ایک سچا یقین، ایک بیدار ارادہ، اور ایک باعمل روح اس منجمد عظمت کو پگھلا سکتی ہے۔ یعنی اصل فیصلہ حجم کا نہیں، حرارت کا ہے؛ اصل سوال تعداد کا نہیں، زندہ دم ہونے کا ہے۔
دم کی گرمی:
دم یہاں صرف سانس نہیں بلکہ زندگی کی اندرونی آگ، ایمان کی حرارت، شوق کی گرمی، اور خودی کی بیداری ہے۔ بعض ہستیاں بظاہر چھوٹی ہوتی ہیں مگر ان کے اندر ایسا تپش بھرا یقین ہوتا ہے کہ وہ بڑے بڑے منجمد نظاموں کو ہلا دیتی ہیں۔ اقبال اسی زندہ دم کو بیدار کرنا چاہتے ہیں۔
یہی گرمی شخصیت کو اثر بخش بناتی ہے۔ سرد ذہن حساب تو لگا سکتا ہے، مگر تاریخ نہیں بدلتا۔ زندہ دل انسان حساب بھی کرتا ہے، مگر اس کے اندر ایک ایسی حرارت بھی ہوتی ہے جو جمود کو قبول نہیں کرتی۔
برفیلی قوت کا فریب:
دنیا میں بہت سی چیزیں بظاہر بہت طاقت ور دکھائی دیتی ہیں: بڑے ادارے، سخت نظام، غالب تہذیبیں، مسلط خیالات، اور پرانے جمود۔ مگر اقبال بتاتے ہیں کہ ان میں سے بہت سی قوتیں دراصل “شیر برف” ہیں۔ یعنی ان کی ہیبت ہے مگر ان میں زندگی کی اصل حرارت نہیں۔ اگر زندہ روح سامنے آئے تو یہ طاقتیں پگھل سکتی ہیں۔
یہ نقطہ بہت امید افزا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو ہر بڑے منظر سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے۔ اسے دیکھنا چاہیے کہ سامنے والی قوت واقعی زندہ ہے یا محض منجمد ہیبت ہے۔ اقبال کے نزدیک زندہ باطن منجمد غلبے پر غالب آ سکتا ہے۔
کارِ شگرف کی پہچان:
عظیم کارنامہ صرف ظاہری دھماکے یا وقتی شور کا نام نہیں۔ اقبال کے نزدیک اصل شگرفی یہ ہے کہ انسان سرد دنیا میں حرارت پیدا کرے، مردہ دلوں میں بیداری جگائے، رکاوٹ کے پہاڑ کو حرکت دے، اور ناممکن دکھائی دینے والی چیز کو ممکن کر دے۔
اسی لیے وہ عمل کی صداقت کو دم کی گرمی سے جوڑتے ہیں۔ اگر اندر آگ نہیں تو باہر کا کارنامہ بھی سطحی ہوگا۔ اور اگر اندر کا دم گرم ہے تو کم وسائل کے باوجود بھی بڑی تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے لوگ جمود سے شکوہ کرتے ہیں، مگر اپنے اندر کی حرارت پیدا کرنے کی فکر کم کرتے ہیں۔ ہم بڑے ڈھانچوں، عالمی غلبوں، فکری سرد مہری اور اجتماعی مایوسی کو دیکھ کر بیٹھ جاتے ہیں، جیسے ان کے سامنے کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ اقبال اس شعر میں کہتے ہیں: اگر تم واقعی زندہ ہو تو اپنے نفس کی گرمی دکھاؤ۔
یہ شعر امت کو خود ترحمی سے نکال کر تاثیر کی طرف لے جاتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ سامنے کتنا بڑا برفیلا شیر کھڑا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ تمہارے اندر کتنا گرم دم ہے۔ اقبال کی پکار یہی ہے کہ اپنے اندر کی حرارت کو بیدار کرو اور اسے کارِ شگرف میں ڈھال دو۔
مثال
جیسے سورج کی معمولی سی کرن بھی ساری رات جمی ہوئی برف کو پگھلانا شروع کر دیتی ہے، ویسے ہی زندہ ارادہ بڑے جمود کو توڑنے کا آغاز کر سکتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ عظیم کام زندہ باطن کی حرارت سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر انسان کے اندر سچا دم ہو تو وہ سرد اور منجمد طاقتوں کو بھی پگھلا سکتا ہے۔