رموز بے خودی

چون کلیمی سوی فرعونی رود

چون کلیمی سوی فرعونی رود

قلب او از لاتخف محکم شود

ترجمہ

جب کوئی کلیم کی طرح کسی فرعون کی طرف جاتا ہے تو اس کا دل “لا تخف” یعنی خوف نہ کر سے مضبوط ہو جاتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی قرآنی کہانی کو ایک زندہ علامت کے طور پر لاتے ہیں۔ یہ صرف ماضی کا واقعہ نہیں، بلکہ ہر دور کے حق اور باطل کے مقابلے کا اصول ہے۔ جب کوئی حق کا داعی فرعونیت کے سامنے جاتا ہے تو اس کے دل کو اصل طاقت دنیاوی اسباب سے نہیں، بلکہ “لا تخف” کے الٰہی پیغام سے ملتی ہے۔ شعر کے مطابق:

کلیمی کا مفہوم:

“کلیمی” سے مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت بھی ہے اور وہ صفت بھی کہ انسان حق کے کلمے، ربانی پیغام اور دعوتِ صداقت کے ساتھ میدان میں اترے۔ اقبال اس لفظ سے ایک ایسی روحانی جرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو باطل کے تخت کے سامنے بھی سچ بولنے کو تیار ہوتی ہے۔

یعنی “کلیمی” محض شخصیت نہیں، ایک طرزِ کردار ہے: خدا کے ساتھ نسبت رکھتے ہوئے ظلم کے سامنے ڈٹ جانا۔

فرعونی کا معنی:

“فرعونی” ہر اس قوت کا استعارہ ہے جو تکبر، جبر، خود خدائی، اور انسانوں کو غلام بنانے کی خواہش رکھتی ہو۔ اقبال کی نظر میں فرعون صرف ایک تاریخی شخص نہیں بلکہ ہر دور کی ظالمانہ ساخت، باطل اقتدار اور تکبر سے بھرا نظام بھی ہے۔

اس لیے شعر کا دائرہ بہت وسیع ہو جاتا ہے: ہر وہ شخص جو حق کے ساتھ ظلم کے مرکز کی طرف بڑھے، وہ اس قرآنی نقشے میں داخل ہو جاتا ہے۔

“لا تخف” کی دل آویزی:

اقبال کے نزدیک دل کی اصل مضبوطی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ الٰہی خطاب سے بھر جائے۔ “لا تخف” محض ایک تسلی نہیں، بلکہ خوف کے مرکز پر ضرب ہے۔ اس کلمے سے دل کو یاد رہتا ہے کہ ظاہری طاقت کتنی بھی بڑی ہو، اصل اقتدار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

یہی یاد دل کے لرزتے ہوئے عالم کو جمعیت میں بدل دیتی ہے۔ بندہ کمزور ہو سکتا ہے، حالات سخت ہو سکتے ہیں، مگر اگر “لا تخف” دل میں اتر جائے تو باطن میں ایک نئی مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔

عملی جرات اور روحانی یقین:

اس شعر میں اقبال عمل اور یقین کو الگ نہیں کرتے۔ فرعون کی طرف جانا عمل ہے، اور “لا تخف” سے دل کا مضبوط ہونا یقین ہے۔ اگر یقین ہو مگر عمل نہ ہو تو حق کی شہادت کمزور رہتی ہے، اور اگر عمل ہو مگر یقین نہ ہو تو دل جلد ٹوٹ سکتا ہے۔ اس لیے وہ دونوں کو ایک ہی منظر میں جمع کرتے ہیں۔

یہی اقبالی تربیت ہے کہ بندہ رب کے کلمے سے اپنے باطن کو مضبوط کرے اور پھر دنیا کے میدان میں قدم رکھے۔

ملت کے لیے پیغام:

ایک امت جب اپنے زمانے کے فرعونی نظاموں، فکری جبر یا سیاسی باطل کے سامنے کھڑی ہوتی ہے تو اسے یہی کلیمی یقین درکار ہوتا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ ملت خوف میں گھلنے کے بجائے الٰہی پیغام سے دل مضبوط کرے۔ تب ہی وہ ظلم کے مقابلے میں صرف شکایت نہیں، بلکہ شہادت اور کردار بھی پیش کر سکے گی۔

پس اس شعر میں موسوی جرات، اقبالی خودداری اور توحیدی اعتماد ایک ہی رشتے میں بندھ جاتے ہیں۔

مثال

جب کوئی شخص کسی بڑے بااثر ظلم کے خلاف سچ بولنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی اصل قوت عہدے یا تعداد سے نہیں، بلکہ اس یقین سے آتی ہے کہ سچائی کا مالک اس کے ساتھ ہے۔ یہی “لا تخف” کا عملی اثر ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق جو شخص کلیمی شان کے ساتھ فرعونی قوت کے سامنے جاتا ہے، اس کے دل کی مضبوطی “لا تخف” کے الٰہی پیغام سے پیدا ہوتی ہے۔ یہی خوف سے آزادی حق کے لیے جرات مند عمل کی بنیاد ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button