بیم و شک میرد عمل گیرد حیات
بیم و شک میرد عمل گیرد حیات
چشم می بیند ضمیر کائنات
ترجمہ
خوف اور شک مر جاتے ہیں، عمل زندگی پا لیتا ہے، اور آنکھ کائنات کے باطن کو دیکھنے لگتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں توحید کے نتیجے میں پیدا ہونے والی روحانی انقلاب آفرینی کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتے ہیں۔ جب دل میں صحیح یقین پیدا ہو جاتا ہے تو خوف اور شک کی جڑیں کمزور پڑ جاتی ہیں، عمل مردہ نہیں رہتا، اور انسان کی نگاہ صرف ظاہر تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ کائنات کے اندر چھپی ہوئی معنویت کو محسوس کرنے لگتی ہے۔ شعر کے مطابق:
بیم اور شک کا مر جانا:
اقبال کے ہاں “بیم” صرف عام ڈر نہیں بلکہ وہ ذہنی اور روحانی کمزوری ہے جو انسان کو قدم اٹھانے سے روکتی ہے۔ “شک” وہ تذبذب ہے جو سچائی کے علم کے باوجود ارادے کو منتشر رکھتا ہے۔ جب توحید دل میں راسخ ہو جائے تو انسان یہ جان لیتا ہے کہ اصل اقتدار ایک ہی ذات کے ہاتھ میں ہے، اس لیے مخلوق کے خوف، حالات کے دباؤ اور انجام کی ضرورت سے زیادہ گھبراہٹ کا زور ٹوٹنے لگتا ہے۔
اسی طرح شک بھی اپنی غیر ضروری شدت کھو دیتا ہے، کیونکہ دل کو ایک ایسا مرکز مل جاتا ہے جو سوچ کو پراگندہ نہیں رہنے دیتا۔
عمل کو زندگی ملنا:
عمل بہت سے لوگوں کی زندگی میں موجود تو ہوتا ہے مگر زندہ نہیں ہوتا۔ وہ عادت، مجبوری، دکھاوے یا محض رسم کے طور پر کیا جاتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ توحید کے بعد عمل “حیات” پاتا ہے، یعنی اس میں جان، اخلاص، مقصد اور اثر پیدا ہو جاتا ہے۔ اب انسان صرف حرکت نہیں کرتا بلکہ شعور کے ساتھ کرتا ہے۔
یہی زندہ عمل تاریخ بناتا ہے، معاشرہ بدلتا ہے، اور فرد کے باطن کو بھی روشن کرتا ہے۔
ضمیر کائنات کی رؤیت:
“چشم می بیند ضمیر کائنات” ایک بلند اور وسیع تصور ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ انسان ہر غیب کو دیکھنے لگتا ہے، بلکہ یہ کہ اس کی نگاہ کائنات کو بےمعنی اور بےجان مادہ نہیں سمجھتی۔ وہ اس میں حکمت، مقصد، ترتیب اور ربانی نشانیوں کو پہچاننے لگتی ہے۔ دنیا پھر فقط اشیا کا مجموعہ نہیں رہتی، بلکہ ایک معنی خیز امانت معلوم ہوتی ہے۔
یہ بصیرت انسان کو زندگی کے ساتھ زیادہ ذمہ دارانہ اور زیادہ پرمعنی تعلق عطا کرتی ہے۔
عمل اور بصیرت کا ربط:
اقبال کے نزدیک یہ بصیرت محض مراقبے یا تنہائی سے نہیں آتی، بلکہ زندہ عمل کے ساتھ بڑھتی ہے۔ جب انسان حق کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے تو اس کی آنکھ میں روشنی اور دل میں فہم بڑھتی ہے۔ اسی لیے شعر میں عمل کی حیات اور ضمیرِ کائنات کی رؤیت ایک ہی سلسلے میں آئے ہیں۔
گویا صحیح یقین سے صحیح عمل پیدا ہوتا ہے، اور صحیح عمل سے بصیرت گہری ہوتی جاتی ہے۔
اجتماعی پہلو:
اگر ایک ملت خوف، شک اور بےعملی میں مبتلا ہو جائے تو وہ نہ اپنی تقدیر سنوار سکتی ہے نہ کائنات میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ توحید ایسی قوم کو نئی جان دیتی ہے۔ وہ اسے خوف کے ماحول سے نکالتی ہے، عمل کی طرف لاتی ہے، اور ایک بڑی تاریخی و اخلاقی بصیرت عطا کرتی ہے۔ تب قوم اپنی حالت کو محض حادثہ نہیں سمجھتی بلکہ ایک امانت اور آزمائش کے طور پر دیکھنے لگتی ہے۔
یہی نگاہ ملت کو بیدار بھی کرتی ہے اور سنوارتی بھی ہے۔
مثال
جب ایک شخص اندھیرے کمرے میں ہو تو وہ ہر چیز سے ڈرتا اور الجھتا ہے، لیکن جیسے ہی روشنی آتی ہے تو خوف کم ہوتا ہے، راستہ نظر آتا ہے، اور وہ حرکت کرنے لگتا ہے۔ توحید بھی دل کے لیے ایسی ہی روشنی ہے جو خوف کم کرتی، عمل جگاتی اور نظر کو گہرا کرتی ہے۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال نے دکھایا کہ توحید کے زندہ ہونے سے خوف اور شک کمزور پڑتے ہیں، عمل میں جان آتی ہے، اور انسان کی نگاہ کائنات کی معنویت کو پہچاننے لگتی ہے۔ یہی کیفیت فرد اور ملت دونوں کے احیا کی بنیاد ہے۔
