رموز بے خودی

نقش گیر اندر دلش او می شود

نقش گیر اندر دلش «او» می شود

«من» ز ہم می ریزد و «تو» می شود

ترجمہ

(جب خودی جلوت میں آتی ہے تو) اس کے دل میں «او» یعنی ملت کا نقش بیٹھ جاتا ہے، «میں» بکھر جاتا ہے اور «تو» بن جاتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں فرد کے اجتماع میں ضم ہونے اور اس کی انا کے مٹنے کے عمل کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اجتماع فرد کی «میں» کو «تو» میں بدل دیتا ہے۔ شعر کے مطابق:

دل میں «او» کا نقش:

جب خودی اجتماع میں شامل ہوتی ہے تو اس کے دل میں «او» یعنی ملت اور اجتماع کا نقش بیٹھ جاتا ہے۔ اب اس کی سوچ کا مرکز اس کی اپنی ذات نہیں رہتی۔

ملت کا یہ نقش فرد کے دل و دماغ پر چھا جاتا ہے اور اس کے تمام ارادوں اور اعمال کو اجتماعی رنگ دے دیتا ہے۔

«میں» کا بکھرنا:

فرد کی انفرادی «میں» یعنی خود غرضی، انا اور تنگ نظری ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے۔ وہ اپنی ذات کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے۔

یہ بکھرنا فرد کا نقصان نہیں بلکہ اس کی ترقی ہے، کیونکہ وہ محدود «میں» سے نکل کر ایک وسیع تر حقیقت میں داخل ہو جاتا ہے۔

«تو» بن جانا:

«میں» کی جگہ «تو» یعنی دوسروں اور اجتماع کا احساس لے لیتا ہے۔ یوں فرد خود سے نکل کر ملت کا حصہ بن جاتا ہے اور اجتماعی مفاد کو ترجیح دینے لگتا ہے۔

انا سے اجتماعیت تک:

اقبال کے نزدیک یہی خودی کا حقیقی سفر ہے کہ فرد اپنی انا سے نکل کر اجتماعیت کے احساس میں ڈھل جائے۔

مثال

جیسے قطرہ سمندر میں شامل ہو کر اپنی جدا «میں» سے نکل کر سمندر «تو» بن جاتا ہے، ویسے ہی فرد اجتماع میں اپنی انا کو مٹا کر ملت کا حصہ بن جاتا ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ اجتماع میں آ کر فرد کی انفرادی «میں» بکھر جاتی ہے اور اس کی جگہ اجتماعی «تو» لے لیتا ہے، اور یہی خودی کی معراج ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button