رموز بے خودی

رونق از ما محفل ایام را

رونق از ما محفل ایام را

او رسل را ختم و ما اقوام را

ترجمہ

زمانے کی محفل کو رونق ہم سے ملتی ہے؛ وہ رسولوں کے خاتم ہیں، اور ہم اقوام کے درمیان آخری اور فیصلہ کن امت ہیں۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ختمِ رسالت کے بعد امت کی عالمی ذمہ داری کو نمایاں کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الرسل ہیں، اور امتِ مسلمہ اس ختم کا ایک تاریخی نتیجہ ہے: اب وہ اقوام کے درمیان محض ایک قوم نہیں بلکہ آخری جامع امت ہے جس پر پیغامِ نبوی کی نمائندگی اور شہادت کا فرض عائد ہوتا ہے۔ شعر کے مطابق:

محفلِ ایام کی رونق:

زمانہ ایک محفل کی طرح ہے جہاں مختلف اقوام اپنے اپنے کردار ادا کرتی ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس محفل کی رونق ہم سے ہے، یعنی امتِ مسلمہ کا وجود محض اتفاقی نہیں بلکہ تاریخ کے اندر معنی، اخلاق، توازن اور خدا کی یاد کو قائم رکھنے والا کردار رکھتا ہے۔ اگر یہ امت اپنی اصل پہچان پر قائم رہے تو زمانہ اس کے ذریعے نئی زندگی پاتا ہے۔

یہ دعویٰ تفاخر کے لیے نہیں، ذمہ داری کے احساس کے لیے ہے۔

وہ رسل را ختم:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت و رسالت کا ختم ہونا ان کی منفرد جامعیت اور مرکزیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اب وحی کی آخری مکمل صورت آ چکی، اب نئے رسولوں کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہ نکتہ اقبال کے لیے امت کی اگلی ذمہ داری کی بنیاد بن جاتا ہے۔

یعنی خاتم الرسل کی امت کو بھی اپنے کردار میں ایک خاص بلوغ دکھانا ہوگا۔

ما اقوام را:

اس مصرعے کا ایک اہم مفہوم یہ ہے کہ امتِ مسلمہ اقوام کے درمیان آخری اور بالغ امت کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ محض ایک نسلی قوم نہیں بلکہ حاملِ پیغام جماعت ہے۔ اب اس پر لازم ہے کہ وہ دوسری قوموں کے سامنے حق کی گواہی، عدل کا نمونہ، اور رحمت کا پیغام بنے۔

اس طرح امت کا وجود قومی خود غرضی سے بلند ہو کر عالمی امانت بن جاتا ہے۔

رونق کے تقاضے:

اگر امت واقعی محفلِ ایام کی رونق ہے تو اس کی تہذیب میں علم، اخلاق، عدالت، رحم، تخلیق، اور روحانی وقار ہونا چاہیے۔ محض نام کی امت، مگر عمل میں اندھی قوم، زمانے کو رونق نہیں دے سکتی۔ اقبال اس شعر میں چھپی ہوئی تنبیہ بھی رکھتے ہیں کہ اپنی اصل نبوی ذمہ داری سے گر کر امت اپنی روشنی کم کر دیتی ہے۔

اس لیے یہ شعر عزت کے ساتھ محاسبہ بھی مانگتا ہے۔

آج کے لیے پیغام:

آج امت کو اپنی شناخت یا تو دفاعی انداز میں سمجھایا جاتا ہے یا محض ماضی کے فخر میں۔ اقبال اسے زندہ ذمہ داری کے طور پر پیش کرتے ہیں: تم زمانے کی محفل میں ایک ضروری اخلاقی و روحانی کردار رکھتے ہو۔ اگر تم اپنی رسالتی نسبت کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ تو تمہارا وجود اب بھی تاریخ کو روشنی دے سکتا ہے۔

محفلِ ایام کی رونق بننے کے لیے نبوی امانت کو زندہ کردار میں ڈھالنا ہوگا۔

مثال

کسی شہر میں ایک ایسا ادارہ جو علم، خدمت اور دیانت کا معیار قائم رکھے، پورے ماحول کو بدل سکتا ہے۔ اس کی موجودگی شہر کی رونق بڑھاتی ہے۔ امت کا عالمی کردار اس سے کہیں بڑا مگر اسی اصول پر قائم ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الرسل ہیں، اور امتِ مسلمہ اقوام کے درمیان آخری حاملِ پیغام جماعت ہے۔ اگر وہ اپنی رسالتی ذمہ داری نبھائے تو زمانے کی محفل کو حقیقی رونق دے سکتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button