رموز بے خودی

گفت از بهر خدا بخشیدمش

گفت از بهر خدا بخشیدمش

از برای مصطفی بخشیدمش

ترجمہ

اس نے کہا: میں نے خدا کے لیے اسے معاف کیا، میں نے مصطفیٰ کی خاطر اسے بخش دیا۔

تشریح

یہ شعر حکایت کے جذباتی، روحانی اور اخلاقی عروج پر مشتمل ہے۔ معمار اب صرف قانون کا طالب نہیں رہتا، بلکہ رحمت کا مظہر بن جاتا ہے۔ مگر اس کی معافی ذاتی کمزوری یا سیاسی خوف سے پیدا نہیں ہوتی؛ وہ خدا کے لیے اور رسول خدا کی نسبت سے پیدا ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی بخشش اسلامی احسان کا خالص ترین چہرہ ہے۔ شعر کے مطابق:

بخشش کا ماخذ:

معمار یہ نہیں کہتا کہ میں نے اس لیے بخشا کہ سامنے بادشاہ تھا، یا اس لیے کہ میں ڈر گیا، یا اس لیے کہ میں مجبور تھا۔ وہ کہتا ہے: خدا کے لیے بخشا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا فیصلہ کسی دنیاوی توازن سے نہیں بلکہ ایک بلند تر روحانی مرکز سے آرہا ہے۔ معافی یہاں ایک خود مختار، باعزت اور بندگی سے روشن عمل بن جاتی ہے۔

یہی فرق اسلامی بخشش کو کمزوری سے الگ کرتا ہے۔

از برای مصطفی:

رسول اکرم کی نسبت اس بخشش کو صرف روحانیت نہیں بلکہ نبوی اخلاق سے بھی جوڑتی ہے۔ اقبال کے ہاں مصطفوی نسبت رحم، عدل، وقار، ضبط اور دل کی وسعت کا سرچشمہ ہے۔ معمار گویا کہتا ہے کہ میں نے اس معافی کو اپنی ذات کے تنگ دائرے سے نکال کر نبوی تہذیب کے بڑے افق سے جوڑ دیا ہے۔

یہ بخشش فردی ردعمل نہیں، سنتِ رحمت کی ایک جھلک بن جاتی ہے۔

حق کے بعد فضل:

اسلامی مساوات کی خوب صورتی یہ ہے کہ اس میں معافی کبھی حق کو مٹا کر نہیں آتی۔ یہاں معمار اپنا حق ثابت کر چکا، سلطان جواب دہ ہو چکا، قاضی اصول بیان کر چکا، اور قصاص کی راہ کھل چکی۔ اب بخشش آتی ہے۔ یعنی معافی حق کے انکار پر نہیں بلکہ حق کے اعتراف پر قائم ہے۔

یہی وجہ ہے کہ معافی یہاں مظلوم کی شکست نہیں بلکہ اس کی اخلاقی فتح ہے۔

اقبال کے فلسفے میں کرامت:

اقبال اس شعر میں کمزور کے اندر پوشیدہ عظمت کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہی معمار جس کا ہاتھ کٹا، اب روحانی بلندی کے مقام پر سلطان سے اوپر دکھائی دیتا ہے۔ اس کے پاس زخمی جسم ہے، مگر معاف کرنے والا دل بھی ہے۔ یہی وہ کرامت ہے جو اسلامی قانون کی پناہ میں کھلتی ہے: انسان پہلے محفوظ ہو، پھر بلند بھی ہو۔

محفوظ نہ ہونے والے انسان سے بلند اخلاق کی توقع اکثر ناانصافی ہوتی ہے؛ اقبال اس ترتیب کو درست کرتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج اگر کوئی مظلوم حق ملنے، عزت بحال ہونے اور سچ تسلیم ہو جانے کے بعد معاف کرتا ہے تو یہ عمل معاشرے کو صرف نرم نہیں کرتا بلکہ اخلاقی طور پر بلند بھی کرتا ہے۔ مگر اقبال کا سبق یہ بھی ہے کہ ایسی معافی ہمیشہ آزاد اور خدا کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ دباؤ، سودا بازی یا دکھاوے کے لیے۔

سچی بخشش وہی ہے جس میں عزت بھی محفوظ رہے اور دل بھی کشادہ ہو۔

مثال

کسی بااختیار شخص کی زیادتی کے بعد اگر متاثرہ فرد پہلے قانونی طور پر سنا جائے، اس کی عزت بحال ہو، اور پھر وہ آزاد دل سے درگزر کرے، تو اس کی معافی محض سمجھوتہ نہیں بلکہ اخلاقی قیادت بن جاتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ خدا اور مصطفیٰ کی نسبت سے دی گئی معافی حق کے بعد آنے والا بلند ترین احسان ہے۔ یہ معافی مظلوم کی مجبوری نہیں بلکہ اس کی روحانی اور اخلاقی عظمت کا اعلان ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button